انوارالعلوم (جلد 3) — Page 449
۴۴۹ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ دا لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی ﷺ۔سو تم کوشش کرو کہ کچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو۔اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی۔بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے۔اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے۔اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو۔جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا۔جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا۔اس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔موسی نے وہ متاع پائے جس کو قرون اولی کھو چکے تھے۔اور حضرت محمد نے وہ متاع پائے۔جس کو موسیٰ کا سلسلہ کھو چکا تھا۔اب محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے۔مگر شان میں ہزار ہا درجہ بڑھ کر۔مثیل موسیٰ موسی سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر۔اور وہ مسیح موعود نہ صرف مدت کے لحاظ سے آنحضرت ا کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔جیسا کہ مسیح ابن مریم موسی کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔بلکہ وہ ایسے وقت میں آیا جب کہ مسلمانوں کا وہی حال تھا جیسا کہ مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں کا حال تھا۔سو وہ میں ہی ہوں"۔ی کشتی نوح صفحه ۱۲ تا ۱۶ اروحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۰ تا ۱۴