انوارالعلوم (جلد 3) — Page 443
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۴۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں اس کو انعام حاصل کرنے کے لئے موقعہ دیا تھا لیکن اس نے کچھ نہ حاصل کیا۔ جماعت کو ضروری اور قیمتی نصائح ہیں جو لوگ بیعت کا مفہوم اور مطلب سمجھتے ہیں۔ اور ان کو میں سناتا ہوں ۔ مگر اس لئے نہیں کہ وہ سن کہہ دیں کہ بڑا مزیدار لیکچر تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور عملی طور پر ثابت کر دیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور انہوں نے اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہوا ہے۔ اگر وہ میری باتوں کو سن کر ان پر عمل کریں گے ۔ تو بڑے بڑے انعامات پائیں گے اور اگر نہیں کریں گے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان باتوں کے سننے میں انہوں نے جو وقت صرف کیا ہو گا۔ وہ ضائع کیا ہو گا۔ پس میں جو کچھ کہتا ہوں اس کو گوش ہوش سے سنو اور میں صرف تمہیں ہی نہیں بلکہ اپنے نفس کو بھی کہتا ہوں۔ اگر تم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا ہوا ہے اور اپنی جان اور مال کو خدا کے لئے دینے کو ہر وقت تیار ہو اور اس کے بدلہ میں ہلاک کرنے والے عذاب سے بچنا اور جنت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اول ایمان کی درستی کرو دوم اعمال کو درست بناؤ۔ سوم دوسروں کو حق اور صداقت پہنچاؤ۔ اگر کوئی یہ باتیں نہیں کرتا۔ تو اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعامات کی امید رکھے۔ پس اے دوستو ا سنو اور بڑے غور سے سنو کہ زمانہ گذرتا جاتا ہے اور موت قریب آرہی ہے۔ ہم آج کی صبح کے وقت موت کے قریب تھے۔ اب اس سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اور جس وقت یہ لیکچر ختم ہو گا۔ اس وقت اور بھی زیادہ قریب ہو جائیں گے۔ موت اس شیر کی طرح ہے جو ہماری طرف منہ کھولے بھاگتا چلا آ رہا ہو۔ وہ ہر گھڑی اور ہر لحظہ ہمارے قریب اور نزدیک ہو رہی ہے۔ اس لئے ہمیں فرصت تھوڑی اور کام بہت ہے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ اس لیکچر کے ختم ہونے تک کون زندہ رہے گا۔ اور کس کو موت آدبائے گی۔ حتی کہ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ سانس جو اس وقت آیا ہے اس کے بعد بھی کوئی آئے گا یا نہیں۔ اس لئے نہایت ضروری ہے اور اس میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کرنی چاہئے کہ ہم اس بات کا عہد اور پختہ عہد کرلیں کہ ہم اپنی جان اور مال خدا کی راہ میں دینے کو ہر وقت تیار ہیں۔ تاکہ اگر اس وقت جان نکل جائے ۔ تو ہم کہہ سکیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کچی اور پکی بیع کی تھی اور اس پر شرح صدر سے قائم تھے ۔ پس اپنے دلوں میں تبدیلی کرو اور فورا کرو تا کہ خدا تعالیٰ کے حضور انعام پانے کے مستحق ٹھر سکو۔ ورنہ صرف منہ سے کہہ دینے سے کہ ہم احمدی ہو گئے ہیں کچھ نہیں ملے گا۔