انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 441

اسم سلام جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں اترے۔کیونکہ ایک تاجر اس وقت کسی چیز کی قیمت حاصل کر سکتا ہے۔جبکہ خریدار کو وہ چیز دے بھی۔لیکن اگر یہ کہے میں چیز تو نہیں دوں گا مجھے یونہی قیمت دے دو تو یہ اس کی جہالت اور نادانی ہوگی۔اسی طرح اگر ایک بندہ یہ امید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل اور مصیبت میں میری تائید کرے۔اور اپنے انعامات کا وارث بنائے۔تو اسے چاہئے کہ وہ چیز بھی خدا تعالیٰ کو دے جس کے عوض میں اسے یہ کچھ حاصل ہو سکتا ہے ورنہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کیا اگر کوئی سوداگر اس طرح کرے کہ خریداروں سے اپنے مال کا سودا تو کر لے لیکن انہیں مال نہ دے بلکہ اپنے ہی گھر رکھ لے تو وہ قیمت حاصل کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں اسی طرح اگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ جان اور مال کا سودا کر کے اگر ان کو خدا کی راہ میں صرف نہیں کرتا تو وہ بھی ان کا معاوضہ حاصل نہیں کر سکتا۔اور کس قدر افسوس ہے اس انسان پر جو اللہ تعالی کے اس قدر فضلوں اور احسانوں کے ہوتے ہوئے اور ایسی اعلیٰ درجہ کی بیچ کے کرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرنے سے گریز کرے اور خدا تعالیٰ کی آواز پر کان نہ دھرے ایسا انسان ہرگز اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے جان و مال کا سودا کر لیا ہے۔کیونکہ اس کا صرف زبانی کہنا اور عمل کر کے نہ دکھانا اسے کوئی فائدہ اور نفع نہیں پہنچا سکتا۔ہماری جماعت کے لوگ سوچیں اور غور کریں کہ انہوں نے بیعت کی غرض اور فوائد خدا تعالیٰ کے آگے اپنی جان اور مال کے بیچنے کا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دوسری دفعہ حضرت خلیفہ اول کے ذریعہ اور تیسری دفعہ میرے ذریعہ اقرار کیا ہے۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے حضرت خلیفہ اول اور میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور بعضوں نے صرف میرے ہی ہاتھ پر بیعت کے معنی ہیں بیچنے کے اور یہ سب لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ ان کے خوش ہونے کی کیا وجہ ہے۔کیا یہ نہیں کہ جس طرح ایک تاجر پندرہ روپیہ کی چیز خرید لاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں اس کو بیس روپیہ پر بیچوں گا اس لئے وہ خوش ہوتا ہے۔اسی طرح تم بھی خوش ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک عمدہ سودا کیا ہے اور اس کے بدلہ میں تمہیں بڑے بڑے انعام ملیں گے۔لیکن ذرا غور تو کرو کہ جن چیزوں کا تم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا ہے۔ان کو اگر تم با وجود خدا تعالیٰ کے طلب کرنے کے اس کی راہ میں