انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 440

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۰ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں بہت لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالی کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ کرتے ہیں۔ آپ لوگ اپنے دلوں کو ٹولیں اور غور کریں کہ کیا آپ کے دل کے کسی گوشہ سے بھی یہ آواز آتی ہے کہ تمہیں ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔ یہی جواب دینا چاہئے کیا آپ کے پوشیدہ سے پوشیدہ خیالات میں سے کوئی بھی خیال اس بات کی تائید کرتا ہے کہ کسی سے ایک چیز خریدی جائے۔ اور وہ اسے ہی بطور امانت رکھنے کے لئے دے دی جائے۔ لیکن کسی وقت اس کا حصہ مانگا جائے اور اس کی بھی اسے قیمت پیش کی جائے۔ مگر وہ دینے سے انکار کر دے۔ اگر نہیں تو پھر بھی بات اس بیچ کے متعلق کیوں پیش نظر نہیں رکھتے ۔ جو آپ میں اور اللہ تعالٰی میں ہو چکی ہے۔ اس کے لئے یا تو یہ کہو کہ ہم نے بیچ ہی نہیں کی۔ یا یہ کہو بیچ تو کی تھی لیکن اس پر قائم نہیں۔ اور ان فانی چیزوں کو دے کر ابدی انعام کو نہیں لینا چاہتے لیکن جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے اللہ تعالی سے بیچ کی ہوئی ہے۔ اور میں اس پر قائم بھی ہوں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا تعالی کی طرف سے مال اور جان دینے کے لئے آواز آتی ہے۔ تو عذر کرتا ہے اس کا تو اولین اور سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ اس آواز کو قبول کرے اور بڑی خوشی سے اپنی جان اور مال کو خدا کی راہ میں لگا دے۔ یہاں سوال ہوتا ہے کہ اگر کوئی جان اور خدا کی راہ میں جان و مال لگانے کے طریق مال کو خدا کی راہ میں لگانا چاہے تو کس طرح لگا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں میں تین طریق بتاتا ہوں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں۔ (1) انسان اپنے عقائد کو درست کرے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت رکھے ۔ (۲) اپنے اعمال کا ایک حصہ تو جس طرح چاہے عمل میں لائے مگر وہ باتیں جن کے کرنے کے متعلق خدا تعالٰی نے ہدایات بتائی ہیں۔ ان کے مطابق کرے۔ اور جن کے کرنے سے روکا ہے ان سے رک جائے۔ (۳) جو بیچ اس نے خدا تعالی کے ساتھ کی ہے۔ اس کے کرنے کے لئے دوسروں کو کہے۔ اور بتائے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالی کے بڑے بڑے انعامات کے وارث بن جاؤ گے۔ یہ تین طریق خدا تعالیٰ کی راہ میں جان اور مال خرچ تائید الہی کے حصول کا طریق کرنے کے ہیں۔ مذہب اسلام جو خدا اسلام جو خدا تعالیٰ کا سچا اور پا پاک مذہب ہے۔ اس میں داخل ہونے کا یہی فائدہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کی تائید کرتا ہے۔ جہنم سے بچاتا ہے اور انعام دیتا ہے۔ لیکن یہ غرض تب پوری ہو سکتی ہے۔ جبکہ انسان بیچ میں پورا