انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 405

دم جلد ۳۰ ۴۰۵ "three to one" کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح شرط میں جس کو زیادہ یقین ہوتا ہے۔وہ اپنی بات کی تائید میں دوسرے کی تھوڑی رقم کے مقابلہ میں زیادہ رقم شرط کے طور پر رکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنی بات پر زور دینے کے لئے اس فقرہ کو استعمال فرماتا ہے۔لیکن اس رویا کے دیکھنے کے وقت مجھے اس جملہ کے معنی معلوم نہ تھے۔میں اس وقت سفر میں تھا۔جب یہاں آیا تو انگریزی خواں احباب سے اس کے معنی پوچھے انہوں نے کہا کہ ہمیں تو معلوم نہیں۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے یہی محاورہ ایک انگریزی اخبار میں پڑھا۔ولایت میں گھوڑوں پر شرط لگاتے ہیں کہ اگر ہمارے گھوڑے سے فلاں گھوڑا جیت گیا تو ہم ایک کے مقابلہ میں تین دیں گے یا اس طرح کچھ اور۔غرض اس رؤیا کا مطلب یہ کہ میرے کان میں آواز آئی کہ سُن میں تیرے کان میں تجھے ایک بات بتاؤں۔اور وہ یہ کہ زمین ہلائی جائے گی۔(یہ سات آٹھ سال کا رویا ہے ممکن ہے اس سے مراد موجودہ جنگ ہی ہو) کیونکہ لوگ میرے کلام کو بالکل چھوڑ چکے ہیں۔اور میں اس بات پر شرط لگانے کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی میرے مقابلہ میں ایک چیز پیش کرے۔تو میں اس سے تگنی پیش کر دوں گا کہ لوگ میری اتنی بھی پرواہ نہیں کرتے جتنی تاگے کی۔تو میں نے یہ آیتیں رسم کے طور پر نہیں پڑھیں۔میں تو بیمار ہوں۔اور ایک ایک منٹ بلکہ ایک ایک سیکنڈ کے بعد کھانسی آتی ہے۔اور قریباً ایک ماہ سے یہی حالت ہے۔پس میں جو اس حالت میں آپ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوا ہوں بلاوجہ کھڑا نہیں ہوا۔بلکہ میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔مگر اس سے پہلے چند ایک اور باتیں ہیں جو بیان کر دیتا ہوں ان کے بیان کرنے کے بعد ان آیات کا مطلب اور منشاء بتاؤں گا۔پہلی بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔اسے غیرت سمجھو یا اس احساس کا چند متفرق باتیں نتیجہ کہ ہر ایک انسان چاہتا ہے کہ میں بری کیا جاؤں۔حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی جب کہا گیا کہ قید خانہ سے نکل آؤ تو انہوں نے کہا جب تک میرے الزام دور نہ ہوں میں نہیں نکلتا۔وہ بات یہ ہے کہ پچھلے سالانہ جلسہ پر میں نے آپ لوگوں کے ساتھ کچھ وعدے کئے تھے۔مثلاً کہا تھا کہ قرآن کریم کے پاروں کے ترجمے شائع کئے جائیں گے ، دوم یہ کہ قرآن کریم کے اسباق تیار ہوں گئے ، سوم یہ کہ مختلف مسائل کے متعلق چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ لکھے جائیں گے۔مگر ایک سال گذر گیا ہے اور ان میں سے کوئی بات بھی پوری نہیں ہو سکی۔اس کی وجہ کچھ تو یہ ہے کہ اس سال میں خود بہت عرصہ بیمار رہا ہوں۔گو یہ دن بھی ضائع