انوارالعلوم (جلد 3) — Page 392
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۹۲ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید میں نے اپنے خاندان کے چند افراد سمیت اٹھارہ ہزار کی زمین خریدی ہے لیکن غیر مبالعین کا اس پر خوش ہوتا اور یہ خیال کرنا کہ ہمیں اعتراض کا ایک موقع مل گیا درست نہیں بلکہ باوجود اس واقعہ کے پھر بھی ان کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گویہ زمین اٹھارہ ہزار روپیہ کو خریدی گئی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک لحاظ سے یہ زمین مفت ہی آئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزا محمد اکرم بیگ صاحب نے اپنی مملوکہ اراضی واقعہ قادیان میں سے پچھلے سال ۷۵ گھماؤں اراضی ایک سکھ رئیس کے پاس فروخت کی تھی چونکہ قادیان میں اس وقت تک سب ملکیت اراضی یا ہمارے خاندان کے پاس ہے یا مرزا اکرم بیگ صاحب کے پاس کہ ان کا بھی ہمارے خاندان کی ایک شاخ سے رشتہ داری کا تعلق ہے ایک غیر مذہب کے شخص کے پاس زمین کا فروخت ہو جانا ہماری جماعت کے لئے بہت سی تکالیف کا باعث تھا۔ چنانچہ اسی دن سے کہ یہ زمین فروخت ہوئی قادیان کے سکھوں اور ہندوؤں میں ایک جوش پیدا ہو گیا تھا اور ان میں سے بعض بلاوجہ ہماری جماعت کو تکلیف دینے لگ گئے تھے اور موقعہ تلاش کر کر کے فساد کھڑا کرتے تھے کیونکہ ان کو یہ دلیری ہو گئی تھی کہ اب ہم بطور رعایا کے نہیں بلکہ قادیان کی ملکیت میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ اور اب یہاں ایک ہندو مالک بھی ہے۔ اس سے پہلے ان لوگوں کو فساد سے روکنے کا ایک باعث یہ بھی تھا کہ ہندوؤں کا قادیان کی زمینوں پر مالکانہ قبضہ نہ تھا۔ اور وہ بطور مزارعہ یا موروثی زمینوں پر قابض تھے۔ چنانچہ جب کبھی حضرت مسیح موعود کے وقت ان لوگوں نے فساد کیا بھی تو حکام نے اس امر کی بناء پر ان کو بہت کچھ ملزم کیا اور وہ ہمیشہ شرمندہ ہوتے رہے لیکن اب صورت معاملہ کے بدل جانے کی وجہ سے بعض لوگوں کو فساد کا موقعہ مل گیا تھا۔ جس وقت یہ زمین فروخت ہوئی ہے اس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اس قسم کا خطرہ پیدا ہونا اس فروخت سے ممکن ہے۔ اس طرح جماعت کی ضروریات کے لئے زمینوں کے ملنے میں بھی یہ سودا بعض وجوہات سے روک ثابت ہونے والا تھا پس سب باتوں پر غور کر کے میں نے جماعت کے بعض دوستوں سے تحریک کی کہ چونکہ ہمیں حق شفعہ حاصل ہے ہم اس زمین کو خرید لیتے ہیں۔ پھر دوست ہم سے آگے خرید لیں۔ ایک حصہ ہم لے لیں گے تاکہ حق شفعہ بھی قائم رہے اور زیادہ حصہ مختلف دوست اصل قیمت پر ہم سے خرید لیں۔ لیکن شرط یہ ہوگی کہ روپیہ پیشگی دیں کیونکہ ہمارے پاس روپیہ نہیں کہ پہلے اسے چھڑوائیں اور پھر فروخت کریں۔ اس پر بعض دوستوں نے روپیہ جمع