انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 390

م جلد ۳۰ ۳۹۰ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید سکول سے تین گریجوایٹ باہر چلے گئے ہیں۔قاضی عبداللہ صاحب بی۔اے بی ٹی۔صوفی غلام محمد صاحب بی اے ٹرینڈ - ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے ٹرینڈ۔پس ان تین استادوں کے جانے کے بعد سکول کے سٹاف کو مضبوط کرنا نہایت ضروری تھا۔پس اگر اس صورت میں بجائے اس کے کہ کوئی استاد باہر سے منگوایا جاتا۔عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو ہی سکول میں لگا لیا جائے تو اس میں کون سی قباحت ہے۔اگر کوئی استاد باہر سے آتا تو کیا اس کا بوجھ نہ ہو تا یا وہ مفت کام کرتا اور کھانے پینے سے بالکل مستغنی ہو تا۔اگر اس شخص نے بھی باہر سے آکر تنخواہ لینی تھی تو کیوں میاں بشیر احمد صاحب کو ہی جو سکول میں دو تین سال سے کچھ وقت کے لئے کام کرتے ہیں اس کام پر نہ لگایا جاتا۔اپنے لیڈروں سے دریافت کرو حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے مسجد مبارک کے پاس کے کمرہ میں جہاں اس وقت مولوی محمد علی صاحب رہتے تھے۔اجلاس صدر انجمن کے دوران میں آکر فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے کہ آپ کے خاندان کو اڑھائی سو روپیہ ماہوار خرچ کے لئے دیا جائے۔جس پر آپ کے فرمانے کے مطابق عمل ہو تا تھا۔عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو نوے روپے ملتے تھے اب اگر سو روپیہ ملتا ہے تو تینتیس روپیہ گورنمنٹ کی ایڈ ملے گی جس صورت میں انجمن کو صرف ستاسٹھ روپے دینے پڑتے ہیں۔اگر اس پہلی رقم کو مد نظر رکھا جائے جو الہام کے ماتحت ان کو ملتی تھی تو صرف سات روپیہ زیادہ ہر مہینہ میں انجمن کو دینے پڑتے ہیں کیونکہ ساٹھ روپے اس الہام کے ماتحت دیئے جاتے تھے تو اب انجمن کے خزانہ سے صرف سات روپے زیادہ دینے پڑے۔پس اس سات روپیہ کی زیادتی سے انجمن کے سر پر کس قدر بوجھ پڑ جاتا ہے جس کے لئے تم کو اسقدر شور کرنے کی ضرورت پیش آئی۔اور کیا تم خیال کرتے ہو کہ اگر عزیزم میاں بشیر احمد صاحب کہیں باہر جاکر ملازمت کرتے تو انکو اس قدر تنخواہ کی ملازمت نہ مل سکتی تھی؟ ہمارا خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی طور پر بھی معزز ہے اور گورنمنٹ کی خدمات نیک کرتا رہا ہے جس کے صلہ میں ہمارے خاندان کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ابھی دو سال ہوئے ہیں کہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کو ای۔اے۔سی کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن بوجہ بعض عذرات کے اس وقت امتحان میں شامل نہ ہو سکے تو چونکہ انکی عمر زیادہ ہو گئی تھی وہاں تو ان کو نہ لیا گیا لیکن تحصیلدار نامزد کیا گیا کہ جس عہدہ کی تنخواہ بھی معقول ہے پس عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو اگر سکول میں سو روپیہ ماہوار دیا گیا تو