انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 375

سیرت مسیح موعود ۳۷۵ دعوت بھی کی۔چونکہ آپ کی نسبت آپ کے مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ در پردہ گورنمنٹ کے مخالف ہیں کیونکہ افسران بالا سے باوجود اپنے قدیم خاندانی تعلقات کے کبھی نہیں ملتے۔آپ نے عملی طور پر اس اعتراض کو دور کر دیا۔اور فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے خود تشریف لے گئے اس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی جماعت کے بھی تھے صاحب ممدوح نے نہایت تکریم کے ساتھ اپنے خیمہ کے دروازے پر حضرت مسیح موعود کو ریسیو (Receive) کیا۔اور آپ سے مختلف امور آپ کے سلسلہ کے متعلق دریافت کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ان دنوں میں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی۔اور حکام انگریزی اس کی کونسی ٹیوشن پر ایسے خوش تھے کہ ان کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں یہ ایک زبر دست آلہ ثابت ہو گی۔اور بعض حکام رؤساء کو اشار تا اس میں شامل ہونے کی تحریک بھی کرتے تھے۔فنانشل کمشنر صاحب بہادر نے بھی بر سبیل تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔آپ نے فرمایا میں اسے پسند نہیں کرتا۔فنانشل کمشنر نے اس کی خوبی کا اقرار کیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ راہ خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اسے کانگریس پر قیاس نہ کریں اس کا قیام تو ایسے رنگ میں ہوا تھا کہ اس کا اپنے مطالبات میں حد سے بڑھ جانا شروع سے نظر آ رہا تھا۔لیکن مسلم لیگ کی بنیاد ایسے لوگوں کے ہاتھوں اور ایسے قوانین کے ذریعے پڑی ہے کہ یہ کبھی کانگریس کا رنگ اختیار کرہی نہیں سکتی۔اس پر آپ کے ایک مرید خواجہ کمال الدین نے جو دو کنگ مشن کے بانی اور رسالہ مسلم انڈیا کے مالک ہیں۔سرولسن کی تائید کی اور کہا کہ میں بھی اس کا ممبر ہوں اس کے ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں۔مگر دونوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگریس کا رنگ اختیار کرلے گی۔میں اس طرح سیاست میں دخل دینے کو خطرناک سمجھتا یہ گفتگو تو اس پر ختم ہوئی۔لیکن ہر ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ ہوں۔یہ آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔اسی سال ۲۶ اپریل کو بوجہ والدہ صاحبہ کی بیماری کے آپ کو لاہور جانا پڑا جس دن قادیان سے چلنا تھا۔اس رات کو الہام ہوا ” مباش ایمن از بازی روزگار" یعنی حوادث زمانہ سے بے خوف مت ہو۔اس پر آپ نے فرمایا کہ آج یہ الہام ہوا ہے کہ جو کسی خطرناک حادثہ پر دلالت (CONSTITUTION)☀