انوارالعلوم (جلد 3) — Page 13
دم جلد۔۱۳ چند غلط نمیوں کا ازالہ دیکھے کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں نبی بننے والا اپنی شان میں بعض پہلے نبیوں سے بھی افضل ہو سکتا ہے۔غرضکہ ہر ایک شخص القول الفصل اور مولوی صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مولوی صاحب نے القول الفصل کے جواب دینے کی ایک نہایت ناکام کوشش کی ہے۔اور غلط نتائج نکال کر ان کو رد کرنا شروع کر دیا ہے جیسا کہ بعض غیر مذاہب والوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اسلام پر ایک اعتراض کرتے ہیں پھر مسلمانوں کی طرف سے اس کے جواب اپنے پاس سے بنا کر نقل کرتے ہیں لیکن یہ احتیاط کر لیتے ہیں کہ وہ جواب اصل جواب نہ ہوں بلکہ نہایت بودے ہوں پھر ان جوابات کو رد کر کے دھوکا دیتے ہیں کہ گویا اسلام کی کمزوری انہوں نے ثابت کر دی مگر اس سے اسلام کی کمزوری ثابت نہیں ہوتی بلکہ ان جوابات کی کمزوری ثابت ہوتی ہے جو ان کی اپنی ایجاد تھے۔مولوی صاحب نے بھی غلط فہمی سے (کیونکہ میں یہ نہیں خیال کر سکتا کہ انہوں نے جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ایسا کیا ہے) میرے مضمون کے پہلے ایک اور معنی کئے ہیں جو میرے لفظوں سے ثابت نہیں اور پھر اس ایجاد کردہ مطلب کو رو کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں ان کے جوابات سے القول الفصل کا مضمون رد نہیں ہو تا بلکہ صرف ان خیالات کا رد ہوتا ہے جو مولوی صاحب موصوف نے میری تو طرف منسوب کئے ہیں اور القول الفصل ابھی اسی طرح بے جواب پڑا ہے جس کا جواب دینا ابھی ان کے ذمہ باقی ہے اور وہ جواب تبھی درست ہو سکتا ہے جبکہ وہ یہ بات ثابت کر دیں کہ نبی کی تعریف وہ نہیں جو میں اوپر کر چکا ہوں اور جو میں نے القول الفصل میں ثابت کی ہے یا یہ کہ وہ تعریف حضرت مسیح موعود پر صادق نہیں آتی اور پھر یہ بھی ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے سوا کسی اور مجدد کی نسبت بھی کبھی یہ لکھا ہے کہ اسے بھی پہلے انبیاء کی طرح کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی لیکن وہ یہ یاد رکھیں کہ وہ ہرگز اس امر کو کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتے۔پس دیگر مجددین کو آپ کے ساتھ شامل کرنا درست نہیں ہم مانتے ہیں کہ ان کو بھی الہام ہوتے تھے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ بعض کو کثرت سے بھی امور غیبیہ پر اطلاع ) دی گئی ہو گی۔لیکن یہ ثابت کرد کہ حضرت مسیح موعود نے جس طرح اپنی نسبت لکھا ہے ان میں سے بھی کسی کی نسبت یہ لکھا ہو کہ اسے اس کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے جس طرح پہلے انبیاء کو۔پس جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں :