انوارالعلوم (جلد 3) — Page 368
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۶۸ سیرت مسیح موعود اس نے بھی نہ معلوم کیوں اس کو بہت لمبا کیا۔ اور گوڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں تو آپ کو کرسی ملتی تھی لیکن اس مجسٹریٹ نے باوجود آپ کے سخت بیمار ہونے کے آپ کو کرسی نہ دی اور بعض دفعہ سخت پیاس کی حالت میں پانی پینے تک کی اجازت نہ دی۔ آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد آپ پر دو سو روپیہ جرمانہ کیا۔ اس پر سیشن جج صاحب امرت سر مسٹر ہیری صاحب کی عدالت میں جو ایک یورپین تھے اس فیصلہ کی نگرانی کی گئی۔ اور جب انہوں نے مقدمہ کی مثل دیکھی تو سخت افسوس ظاہر کیا کہ ایسے لغو مقدمہ کو مجسٹریٹ نے اس قدر لمبا کیوں کیا؟ اور کہا کہ اگر یہ مقدمہ میرے پاس آتا تو میں ایک دن میں اسے خارج کر دیتا۔ کرم دین جیسے انسان کو جو لفظ مرزا صاحب نے استعمال کئے اگر ان سے بڑھ کر بھی کیے جاتے تو بالکل درست تھا۔ جو کچھ ہوا نہایت نارا جب ہوا ۔ اور انہوں نے دو گھنٹے کے اندر آپ کو بری کر دیا اور جرمانہ معاف کر دیا۔ اور اس طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ حکومت انہی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن کو وہ اس قابل سمجھتا ہے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ جنوری ۱۹۰۵ء میں ہوا۔ اور اس فیصلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے جو وحی آپ پر کئی سال پیشتر مقدمہ کے انجام کی نسبت کی تھی پوری ہوئی۔ اس مقدمہ کی کارروائی کو ایک جگہ بیان کرنے کے لئے میں آپ کے پ کے دو ضروری سفر چھوڑ گیا ہوں ۔ جن میں سے آپکا پہلا سفر تو لاہور کی طرف تھا جو دوران مقدمہ میں ماہ اگست ۱۹۰۴ء میں ہوا۔ اس دفعہ آپ لاہور میں پندرہ دن رہے۔ اس سفر میں بھی چاروں طرف سے لوگ آپ کی زیارت کے لئے جوق در در جوق آئے اور اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور اس تمام عرصہ میں ایک شور پڑا رہا۔ آپ کی قیام گاہ کے نیچے صبح سے شام تک برابر ایک مجمع رہتا۔ مخالف آن آن کر گالیاں دیتے اور شور مچاتے ۔ حتی کہ بعض شریروں نے تو زنانہ مکان میں گھنے کی بھی کوشش کی جنہیں زبردستی باہر نکالا گیا۔ لاہور کے دوستوں کی درخواست پر آپ کا لیکچر مقرر ہوا جو چھاپا گیا اور ایک وسیع ہال میں وہ لیکچر مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے پڑھ کر سنایا۔ آپ بھی پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ قریبا سات آٹھ ہزار آدمی تھے۔ اس لیکچر کے ختم ہونے پر لوگوں نے درخواست کی کہ آپ کچھ زبانی بھی بیان فرمائیں۔ اس پر آپ اس وقت کھڑے ہو گئے اور آدھ گھنٹے تک ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔ چونکہ یہ ایک تجربہ شدہ بات تھی کہ آپ جہاں جاتے ہر مذہب و ملت کے لوگ آپ کے خلاف جوش دکھلاتے خصوصاً مسلمان