انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 358

انوار العلوم جلد ۳۵۸ سیرت مسیح موعود سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔ان باتوں سے سفیر مذکور ناراض ہو کر چلا گیا اور لاہور کے ایک اخبار میں گندی گالیوں کا ایک خط چھپوایا جس سے مسلمانان ہند و پنجاب میں شور مچ گیا۔مگر بعد میں آنے والے واقعات نے اس حقیقت کو کھول دیا۔اس کے ضمن میں بہت سی پیش گوئیاں پوری ہو گئیں۔خود سفیر مذکور حضرت کے مشہور الهام إني مُهِنَّ مَنْ اَرَادَاهَا نَتَكَ کا نشانہ بنا۔کیونکہ وہ ایک سنگین الزام میں ماخوذ ہو کر سزا یاب ہوا۔اور جس اخبار نے نہایت زور سے اس مضمون کی تائید کی تھی اور اسے چھاپا تھا وہ بھی سزا سے نہ بچا اور سلطنت لڑکی کی جو حالت ہے وہ ہر شخص پر عیاں ہے۔اسی سن کی یکم اگست کو آپ کے خلاف ڈاکٹر مارٹن کلارک نام ایک مسیحی پادری نے مقدمہ سازش قتل مسٹراے۔ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرت سر کی عدالت میں دائر کیا۔اور بیان کیا کہ مرزا صاحب نے عبد الحمید نام ایک شخص کو میرے قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔اول تو ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا لیکن بعد میں ان کو معلوم ہوا کہ بوجہ غیر ضلع ہونے کے یہ بات ان کے اختیار سے باہر ہے۔پس مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر ضلع گورداسپور کی عدالت میں منتقل کیا جن کا نام ایم ڈبلیو ڈگلس ہے اور جو اس وقت جزائر انڈمان کے چیف کمشنری سے پنشن یاب ہو کر ولایت میں ہیں آپ کے سامنے بھی عبد الحمید نے یہی بیان کیا کہ مجھے مرزا صاحب نے مارٹن کلارک صاحب کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ ایک بڑے پتھر سے ان کو مار دو۔لیکن چونکہ اس بیان میں جو اس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امر تسر کے سامنے دیا تھا اور اس میں جو اب ان کے سامنے دیا۔کچھ فرق تھا۔اس لئے آپ کو کچھ شک پڑ گیا اور آپ نے بڑے زور سے اس امر کی تحقیقات شروع کی۔اور چار ہی پیشیوں میں ۲۷ دن کے اندر مقدمہ کا فیصلہ کر دیا۔اور باوجود اس کے کہ آپ کے مقابلہ پر ایک مسیحی جماعت تھی۔بلا تعصب حضرت مسیح موعود کے حق میں فیصلہ دیا اور آپ کو صاف بری کر دیا بلکہ اجازت دی کہ اپنے مخالفین کے خلاف مقدمہ دائر کریں۔لیکن آپ نے ان کو معاف کر دیا۔اور ان پر کوئی مقدمہ نہ کیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب اپنے فیصلہ میں تحریر فرماتے ہیں۔