انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 338

العلوم جدید ۲۳۰ ۳۳۸ سیرت مسیح موعود تعلیم دیتا تھا۔اس استاد سے حضرت صاحب نے صرف و نحو کی بعض کتب پڑھیں اس کے بعد سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں مولوی گل علی شاہ آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھے گئے۔ان سے نحو، منطق اور حکمت کی چند کتب آپ نے پڑھیں۔اور فن طبابت کی چند کتب اپنے والد صاحب سے جو ایک نہایت تجربہ کار طبیب تھے پڑھیں۔اور یہ تعلیم ان دنوں کے لحاظ سے جن میں آپ تعلیم پا رہے تھے بہت بڑی تعلیم تھی۔لیکن در حقیقت اس کام کے مقابلہ میں جو آپ نے کرنا تھا کچھ بھی نہ تھی۔چنانچہ ہم نے بعض وہ آدمی دیکھے ہیں جو آپ کے ساتھ ان استادوں سے پڑھتے تھے جن کو آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھا تھا وہ نہایت معمولی لیاقت کے آدمی تھے اور ان کو ایک معمولی خواندہ آدمی سے زیادہ وقعت نہیں دی جا سکتی۔اور جو استاد آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھے گئے تھے وہ بھی کوئی بڑے عالم نہ تھے۔کیونکہ اس وقت علم بالکل مفقود تھا۔اور فارسی اور عربی کی چند کتب کا پڑھ لینے والا بڑا عالم خیال کیا جاتا تھا۔پس جن حالات کے ماتحت اور جن استادوں کی معرفت آپ کی تعلیم ہوئی وہ ایسے تھے کہ ان کی وجہ سے آپ کو کوئی ایسی تعلیم نہیں مل سکتی تھی جو اس کام کے لئے آپ کو تیار کر دیتی جس کے کرنے پر آپ نے مبعوث ہونا تھا۔ہاں اس قدر اس تعلیم کا نتیجہ ضرور ہوا۔کہ آپ کو فارسی اور عربی پڑھنی آگئی اور فارسی میں اچھی طرح سے اور عربی میں قدرے قلیل آپ بولنے بھی لگ گئے تھے۔اس سے زیادہ آپ نے کوئی تعلیم نہیں حاصل کی۔اور دینی تعلیم تو با قاعدہ طور پر کسی استاد سے حاصل نہیں کی۔ہاں آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔اور آپ اپنے والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں اس قدر مشغول رہتے تھے کہ بارہا آپ کے والد صاحب کو ایک تو اس وجہ سے کہ آپکی صحت کو نقصان نہ پہنچے اور ایک اس وجہ سے کہ آپ اس طرف سے ہٹ کر ان کے کام میں مددگار ہوں آپ کو روکنا پڑتا تھا۔جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے ملازمت کے حالات اور مسیحیوں سے مباحثات اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت پنجاب میں مستحکم ہو چکی تھی۔غدر کا پُر آشوب زمانہ بھی گزر چکا تھا۔اور اہل ہند اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت ہی میں تمام عزت ہے اس لئے مختلف شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ایسے حالات کے ماتحت اور اس بات کو معلوم کر کے کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت زمینداری کے