انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 301

۳۰۱ نصائح مبلغین جب کوئی اعتراض پیش آوے پہلے خود اس کے حل کرنے مسائل کے متعلق غور کرو! کی کوشش کرو۔فورا قادیان لکھ کر نہ بھیج دو۔خود سوچنے سے اس کا جواب مل جائے گا۔اور بیسیوں مسائل پر غور ہو جائے گی جواب دینے کا مادہ پیدا ہو گا۔ہم سے پوچھو گے تو ہم تو جواب بھیج دیں گے لیکن پھر یہ فائدے تمہیں نہ ملیں گے۔اس لئے جب اعتراض ہو خود اس کو حل کرو جب حل کر چکو تو پھر تبادلہ خیالات ہونا چاہئے۔اس سے ایک اور ملکہ پیدا ہو گا۔جو آپ ہی سوچے اور پھر اپنے سوچے پر ہی بیٹھ جائے۔اس کا ذہن کند ہو جاتا ہے۔لیکن تبادلہ خیالات سے ذہن تیز ہوتا ہے۔ایک بات ایک نے لگالی ہوتی ہے ایک اور دوسرے نے اس طرح پھر سب اکٹھی کر کے ایک مجموعہ ہو جاتا ہے۔دو مبلغ جہاں ملیں تو لغو باتیں کرنے کی بجائے وہ ان مسائل پر گفتگو کریں۔خدا تعالیٰ سے تعلق ہو۔دعا ہو۔تو کل ہو۔لوگوں کو قادیان بار بار آنے کے لئے اور تعلق قادیان آنے کی تاکید کرتے رہو پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔جب تک کسی شاخ کا جڑ سے تعلق ہوتا ہے وہ ہری رہتی ہے۔لیکن شاخ کا جڑ سے تعلق ٹوٹ جانا اس کے سوکھ جانے کا باعث ہوتا ہے۔موجودہ فتنے میں نوے فیصدی ایسے لوگ ہیں جو اسی وجہ سے کہ ان کا تعلق قادیان سے نہ تھا فتنے میں پڑے۔بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ قادیان میں کچھ کام نہیں رہا روپیہ جاتا ہے اور وہ لوگ بانٹ کر کھا لیتے ہیں۔اس لئے لوگوں کو قادیان سے تعلق رکھنے کے لئے کوشش کرتے رہو۔اپنے کاموں کی رپورٹ ہر سہ ماہی پر بھیجو۔اس کے دوسری طرف میں نے زائد نوٹ لکھوا دیئے ہیں ان کے متعلق بھی لکھو۔یہ بھی یاد رکھو کہ شہروں میں بھی ہماری جماعت میں وفاداری کا اثر لاہوریوں کی دیکھا دیکھی کم نہ ہو جائے۔ہمیشہ جہاں جاؤ ان کے فرائض انہیں یاد دلاتے رہو۔سیاست میں پڑنا ایک زہر ہے جب آدمی اس میں پڑتا ہے دین سے غافل ہو جاتا ہے۔سیاست میں پڑنا امن کا نی مخل ہوتا ہے اور امن کا نہ ہونا تبلیغ میں روک ہوتا ہے۔میں لاہوریوں سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ میں سیاست میں پڑنے سے ڈرتا ہوں سیاست صداقت کے خلاف احسان کے خلاف شریعت کے احکام کے خلاف ہے یہ ایسا زہر ہے کہ جس جماعت میں اس زہر نے اثر کیا ہے پھر وہ ترقی نہیں کر سکی۔اس پر بڑا زور دو اس وقت سیاست کی ایک ہوا چل رہی ہے۔یہ تبلیغ میں