انوارالعلوم (جلد 3) — Page 300
العلوم جلد۔نصائح مبلغین ہوں گے اور یا پھر تمہارے مذہب سے۔جن جن باتوں پر خدا نے تمہیں قائم کیا ہے ان کو پیش کرو۔اگر لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام پیش کرتا ہے منوانا نہیں وہ اللہ کا کام ہے۔محمد رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَذ رند إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرُه لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (الغاشیه : ۲۲-۲۳) جماعت میں ایک احساس پیدا کرو۔وہ احمدیوں کی محبت جماعت میں کیا احساس پیدا کرد پر دوسرے رشتہ داروں کی محبت کو قربان کر دیں ایسی محبت احمدی لوگوں سے ہونی چاہئے کہ رشتہ داری کی محبت سے بھی بڑھ جائے۔حق کی تائید ہونی چاہئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کے مقابل میں رشتہ دار آگیا ہے تو رشتہ دار کی طرف داری اختیار کر لی جائے ہماری قوم ہماری جماعت احمدیت ہے۔پھر اس بات کا احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ دین کا اب سب کام ہم پر ہے جب یہ کام ہم پر ہے تو ہم نے دنیا کے کتنے مفاسد کو دور کرتا ہے۔پھر اس کے لئے کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی مبلغ ہے صحابہ سب مبلغ تھے۔اگر ہر ایک آدمی مبلغ ہو گا تب اس کام میں کچھ آسانی پیدا ہو گی اس لئے ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا جوش پیدا کرو۔پھر مالی امداد کا احساس پیدا کر و۔اگر چہ ہماری جماعت کا معیار تو قائم ہو گیا ہے کہ فضول جگہوں میں جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے مثلاً بیاہ شادیوں میں وہ اب دین کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔لیکن یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔جماعت کا اکثر حصہ ست ہے۔کچھ لوگ ہیں جو بہت جوش رکھتے ہیں۔لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آخر میں سارا بوجھ انہیں لوگوں پر پڑ کر ان لوگوں میں سستی آنی شروع ہو جائے گی۔تو ایک حصہ پہلے ہی ست ہوا دوسرا پھر اس طرح ست ہو گیا تو یہ اچھی بات نہیں اس لئے چاہئے کہ جماعت کو ایک پیمانہ پر لایا جائے۔جماعت کی یہ حالت ہے کہ اخبار میں چندے کے متعلق نکلے تو کان ہی نہیں دھرتے۔ہاں علیحدہ خط کی انتظار میں رہتے ہیں۔لیکن اگر کسی شخص کا لڑکا کم ہوا ہو اور اخبار میں نکل جائے تو جس کے ہاں ہوتا ہے وہ اسے وہیں روک لیتا ہے خط کی انتظار نہیں کرتا۔انکے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو کہ جو نہی یہ دین کے لئے آواز سنیں فورا دوڑ پڑیں۔پہلے مبلغ اپنی زندگی میں یہ احساس پیدا کریں۔