انوارالعلوم (جلد 3) — Page 270
انوار العلوم جلد - هم ۲۷۰ اسلام اور دیگر نے اہب گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے اس سے بغض کریں گے اور آخر اس کے دشمن ہو کر گناہ میں مبتلا ہوں گے پس جبکہ ایک باپ نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد گناہ گار اور ایسی راہ پر چلے جس سے خدائے تعالیٰ سے دور ہو جائے تو وہ کیوں اپنے ہاتھ سے ایسے سامان کرتا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی اولاد میں سے بعض گناہ گار ہوں گے۔اس تعلیم کا مقابلہ بعض اقوام کے اس طریق عمل سے کرو جو وہ اپنی اولاد سے کرتے ہیں کہ ایک کو وارث بنا کر باقی سب کو محروم کر دیتے ہیں تو معلوم ہو گا کہ اسلام نے کس طرح باریک در بار یک مسائل کو بھی کھول دیا ہے تا لوگ ٹھوکر کھا کر ہلاک نہ ہوں چنانچہ اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ مرنے کے بعد بھی کوئی شخص اپنے کسی بیٹے کو زائد مال نہیں دے سکتا۔علاوہ ان احکام کے عورتوں کی قابل رحم حالت معلوم کر کے اسلام نے لڑکیوں کی تربیت اور ان کی خبر گیری کے لئے خاص طور پر حکم دیا ہے۔چنانچہ رسول کریم و فرماتے ہیں کہ جسکو خدائے تعالی تین بیٹیاں دے اور وہ ان کی اچھی طرح خبر گیری کرے تو وہ اس کیلئے جہنم سے بچانے کا ذریعہ ہو جائیں گی۔(ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد واحسانه الى البنات) ان تمام احکام سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ شفقت علی خلق اللہ کے اس پہلو کو جسے اکثر مذاہب نے یا تو بالکل ترک کر دیا ہے یا نہایت ناقص احکام اس کے متعلق دیئے ہیں۔اسلام نے کس کامل طور پر بیان کیا ہے اور کس طرح والدین کو ایسے راستہ پر چلایا ہے کہ جس پر چل کر وہ اپنی اولاد کو ہلاکت سے بچا سکتے ہیں اور خود ہلاکت سے بچ سکتے ہیں۔کیا کوئی اور مذہب ہے جس نے اولاد کے حق میں ایسے بالتفصیل احکام دیئے ہیں۔اگر نہیں تو اسلام کے مقابلہ میں کسی اور مذہب کا کیا حق ہے کہ دنیا کی اصلاح کا دعوی کرے وہ مذاہب اپنا وقت ختم کر چکے اور اپنے اپنے وقتوں میں انہوں نے بھی دنیا کو فائدہ پہنچایا لیکن اس کامل مذہب کے آنے پر اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔ماں باپ اور اولاد کے علاوہ اسلام نے بھائیوں اور بہنوں کو تو بھائیوں کے متعلق احکام بھی فراموش نہیں کیا اور ان سے بھی نیک سلوک کا حکم دیا ہے اور اولاد و والدین کی عدم موجودگی میں ان کو اپنے بھائی کا وارث بنا کر ان کے سلوک کو کامل کیا ہے۔