انوارالعلوم (جلد 3) — Page 269
العلوم جلد۔۲۶۹ اسلام اور دیگر مذاہب اس کے علاوہ اولاد کی تربیت کے متعلق بھی اسلام بہت تاکید کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آيَاتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَادًا (الحريم : ٧) - یعنی اے لوگو اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال بیوی اور بچوں کو بھی آگ سے بچاؤ یعنی ان کو تعلیم و تربیت دو اور یوں ہی آوارہ نہ رہنے دو کہ جاہل رہ کر خدائے تعالی سے بھی پھر جائیں اور آخر ہلاک اور برباد ہو جائیں۔ای طرح اولاد کی تربیت کے متعلق حدیث میں حکم آتا ہے کہ ان کی عزت کرو اور ایسا معاملہ ان سے نہ کرو جس کا نتیجہ آخر یہ نکلے کہ ان کے اندر دنائت پیدا ہو جائے۔اسی طرح فرمایا کہ اولاد کو علم و عقل سکھانا صدقہ و خیرات سے بہتر ہے اور یہ بات بھی درست ہے کیونکہ جو شخص لوگوں کی خیر خواہی میں اپنی اولاد کی تربیت کو بھول جاتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی نیکی کو ختم کر دیتا ہے اور جو شخص اپنی اولاد کو بھی علم و عقل اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے وہ ایصال خیر کا دروازہ اپنی موت کے بعد بھی کھلا چھوڑ جاتا ہے۔اسی طرح اولاد کو مارنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے اور حکم ہے کہ اولاد کو دکھ دینا اور ستانا درست نہیں اور اس کی یہ حکمت ہے کہ مارنے اور دکھ دینے سے ہمیشہ اخلاق ناقص اور خراب ہو جاتے ہیں اور آئندہ زندگی میں انسان کام کا نہیں رہتا لیکن چونکہ اولاد کی تربیت میں کبھی مارنے کی ضرورت پیش آتی ہے اس لئے اگر کبھی ضرورت اور مجبوری ہو تو اس کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ مونہہ پر نہ مارا جائے بلکہ کسی ایسی جگہ مارا جائے جس پر مارنے سے اس کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔(سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب في ضرب الوجه في الحد ) پھر بھائیوں کی محبت قائم رکھنے کے لئے حکم دیا کہ والدین کو سب بیٹوں اور بیٹیوں سے برابر کا سلوک اور معاملہ کرنا چاہئے اور بعض سے خاص رعایت کا معاملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس میں جھگڑے اور لڑائیوں کی نوبت پہنچ جاتی ہے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک شخص رسول کریم اللے کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنے فلاں بیٹے کو ایک غلام دیا ہے۔آپ گواہ رہیں۔آپ نے فرمایا کہ کیا سب بیٹوں کو دیا ہے اس نے کہا کہ نہیں۔فرمایا کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ سب ایک سے نیک ہوں اس نے کہا کہ ہاں۔فرمایا تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ ایک بیٹے کو خاص کر کے انعام دے یہ جائز نہیں۔یا سب کو دے یا اس سے واپس کرلے۔اس طرح آپ نے بتایا کہ جب تم ایک بیٹے کو دوسرے سے خاص کرو