انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 258

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۵۸ اسلام اور دیگر مذاہب کہ ہوشیار آقا کس طرح اپنے گھوڑے کو ایسا موٹا اور فربہ ہونے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ سفر کے ناقابل ہو جائے اسی طرح وہ اسے ایسا دبلا ہونے سے بھی بچاتا ہے کہ جس کا نتیجہ اس کی ہلاکت ہو یہی حال جسم کا ہے جب تک اس کے متعلق دونوں باتوں کا خیال نہ رکھا جائے انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا یعنی ایک طرف تو اس سے اس قدر ریاضت کی جائے کہ وہ بالکل دنیا کی طرف نہ جھک جائے اور ضرورت کے وقت خدائے تعالی کے حکم کو بجالانے سے قاصر رہے اور دوسری طرف اسے اس قدر کمزور نہ کر دیا جائے کہ وہ اپنے دنیاوی فرائض سے بھی معذور ہو جائے اور قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے اور اپنی کمزور حالت سے روح کو بھی صدمہ پہنچائے پس جو نہ ہب انسان کو اپنے نفس سے اس قسم کا سلوک کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ یادہ تفریط کی طرف چلا جاتا ہے یا افراط کی طرف وہ مذہب کامل نہیں کہلا سکتا اور نہ تمام دنیا کے لئے ایسا مذ ہب قابل عمل ہو سکتا ہے۔اور وہی مذہب تمام دنیا کے لئے قابل عمل ہو سکتا ہے جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو اور انسان کو ایسے راستہ پر چلائے جس پر چل کر وہ آسانی سے خدائے تعالی تک پہنچ جائے اور باوجود اس بات کا اقرار کرنے کے کہ تمام مذاہب خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہی آئے ہیں میں یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر کوئی مذہب اس مسئلہ پر کہ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتا چاہئیے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر اور کل طبائع کا خیال رکھ کر روشنی ڈالتا ہے تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔وہی ہے جو ایک طرف تو ایسے لوگوں کا خیال رکھتا ہے جو جسم کے نحیف اور صحت کے کمزور ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہے جو اپنے جسم کی فربہی کی فکر میں اپنی روح کو بالکل بھلا دیتے ہیں چنانچہ قرآن کریم ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر اس بارہ میں کہ انسان کو اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے یوں فرماتا ہے کہ وَلَا تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى التهلُكَةِ - (البقرة : (۱۹۶) یعنی تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالا کرو یعنی عبادات میں یا کھانے پینے میں یا محنت و مشقت میں یا صفائی و طہارت میں کبھی کوئی ایسی راہ نہ اختیار کرو جس کا نتیجہ تمہاری صحت یا تمہاری عقل یا تمہارے اخلاق کے حق میں برا نکلے۔تهلكة کا لفظ جو اس آیت میں اللہ تعالی نے استعمال کیا ہے اس کے معنے کسی ایسے فعل کے ہوتے ہیں جس کا انجام ہلاکت ہو اس لفظ کے استعمال کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ تهلكة کے اصل معنے ایسا کام کرنے کے نہیں جس کا نتیجہ برا نکلے۔پس اس لفظ کے