انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 256

لوم جلد ۳ ۲۵۶ اسلام اور دیگر مذاہب خیال تو کرو کہ اگر کسی ملک کے سب لوگ سب کچھ چھوڑ کر درختوں میں رسیاں ڈال کر الٹے لٹکنے لگ جائیں یا جنگل کاٹ کاٹ کر اپنے ارد گرد آگ کے الاؤ لگا لگا کر سب اس کے اندر بیٹھ جائیں یا سب مرد و عورت یہ عہد کرلیں کہ فلاں او تاریا نبی کی خاطر ساری عمر مجرد رہیں گے اور نکاح نہ کریں گے تو اس قوم یا اس ملک کا کیا حشر ہو گا۔کیا اس میں کوئی شک ہے کہ چند ہی سال میں وہ ملک برباد ہو جائے گا اور انسان کی بجائے درندے اسکے شہروں میں بسیرا کریں گے اگر اللہ تعالی نے انسان کے اندر ایسے جذبات نہ رکھے ہوئے ہوتے جو انسان کو ان ریاستوں سے روکتے ہیں تو شاید بہت سی قومیں ایسے تجربوں کے ذریعہ ہلاک ہو جاتیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کیلئے خود ان کے اندر ہی ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جو اکثروں کو ہلاک ہونے سے بچا لیتے ہیں۔علاوہ اس کے کہ انسان کا اپنے نفس سے وہ معاملہ کرنا جو اوپر بیان ہوا ایک ظلم عظیم ہے اور سوسائٹی کے حقوق کا اتلاف ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کا رد کرتا ہے۔اس قسم کی ریاضتوں کا یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ نفس انسانی ایسا کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر بد خیالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی چنانچہ یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جب انسان کمزور ہو جاتا ہے تو وہ اپنے خیالات و توہمات کا جلد شکار ہو جاتا ہے پس ایسی ریاضتوں کے ذریعہ سے جسم کی طاقت کو توڑ دینے کا نتیجہ بہت دفعہ یہی نکلتا ہے کہ انسان بجائے گناہ سے بچنے کے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس اژدہا سے بھاگنا چاہتا تھا اس کے مونہہ میں چلا جاتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو ان نعماء سے بکلی روکنا چاہتے ہیں جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے استعمال کے لئے پیدا کی ہیں وہ حلال ذرائع سے تو محروم ہو جاتے ہیں لیکن بہت دفعہ اپنے طبعی جوشوں سے مغلوب ہو کر حرام خوری اور حرام کاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کا اپنے جسم کو سخت مشقتوں میں ڈالنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے اور اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور ان قیمتی طاقتوں کا ضائع کرنا ہے جو خدائے تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اسے دین و دنیا کی ترقی کے لئے عطا فرمائی تھیں۔پس جو مذہب اپنے پیروؤں کو اس قسم کی تعلیم دیتا ہے وہ تفریط سے کام لیتا ہے اور نفس کے حقوق کو بلا وجہ روک کر اسے ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے اور ایسا مذہب کسی خاص وقت میں کسی خاص قوم کے لئے تو ممکن ہے کہ مفید ہو لیکن دنیا کی ہدایت کے لئے وہ ہرگز کار آمد نہیں ہو