انوارالعلوم (جلد 3) — Page 249
انوار العلوم ۲۴۹ اسلام اور دیگر نے اہب جو لوگ ان فضلوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس کی طرف سے ملتے ہیں اور ان کو صحیح طور پر اور ایسے مواقع پر استعمال کرتے ہیں جہاں ان کا استعمال کرنا مناسب ہے تو وہ اس فعل پر اور بھی فضلوں کی بارش کرتا ہے اور جس قدر انسان کام کرے اس کا بدلہ دے کر پھر زائد انعام دیتا ہے اور وہ جزاء و سزا کے دن کا مالک ہے یعنی نہ صرف یہی کہ نہایت حسین اور محسن ہے بلکہ انسان کے تمام افعال کا ایک وقت مقررہ پر وہ جائزہ بھی لیتا ہے اور پھر اپنے مالکانہ اقتدار کے ساتھ نیک کو انعام اور شریر کو سزا دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔مالک کے لفظ میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اس کا انعام بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی سخت ہوتی ہے کیونکہ جو مالک نہ ہو اس کی سزا سے انسان بچ جاتا ہے جیسا کہ بادشاہ کسی کو سزا دینے لگے اور وہ مر جائے یا کسی تکلیف کے عذاب کے خیال سے خود کشی کر لے تو اس بادشاہ کی سزا سے وہ بچ جائے گا لیکن فرمایا کہ ہم مالکانہ اقتدار رکھتے ہیں اور ہمارے قبضہ سے نکل جانا کسی کی طاقت میں نہیں پس اگر تمہارے لئے کوئی اور بات ہم سے تعلق پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو سکتی تو اس بات کا خیال رکھو کہ ہم حکم عدولی پر سزا بھی سخت دیتے ہیں چنانچہ آگے فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ و إيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی بندہ جب ان تمام صفات پر غور کرتا ہے تو خواہ کسی خیال اور کسی طبیعت کا انسان ہو حسن پر شیدا ہو جانے والا ہو یا احسان پر یا خوف سے ماننے والا ہو۔وہ اپنی طبیعت کے مطابق سورۃ فاتحہ میں علاج پالیتا ہے اور بے اختیار ہو کر کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا ! میں تیری ہی فرمانبرداری کرتا ہوں یعنی جب وہ سب باتیں جن کی وجہ سے کسی ہستی ہے محبت اور پیار کیا جاتا ہے تجھ میں پائی جاتی ہیں تو پھر تیرے سوا اور کس سے میں تعلق پیدا کر سکتا ہوں۔ان الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مومن جب کامل تعلق اللہ تعالٰی سے پیدا کر لیتا ہے تو اس کی محبت اور خوف دونوں اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور آئندہ نہ محبت میں نہ خوف میں خدائے تعالی کا شریک کسی کو نہیں کرتا اگر وہ کسی چیز سے محبت کرتا ہے تو خدا کیلئے اور خدا میں ہو کر اور اگر وہ خوف کرتا ہے تو خدا کے حکم سے اور انہی سے جن کی نافرمانی سے بچنے کا اس نے حکم دیا ہے۔اور چونکہ جب ان صفات کاملہ پر انسان غور کرے تو وہ محبت یا خوف کی وجہ سے بے اختیار ہو جاتا ہے اور محبت و خوف اس پر اس قدر حاوی ہو جاتے ہیں کہ وہ اب اپنی ذات کو حقیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بالکل بے جان خیال کرتا ہے۔اس لئے اس خیال کی ترجمانی کرنے کے لئے ساتھ ہی فرما دیا کہ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی آپ کے اس حسن اور احسان اور اس طاقت و جلال۔