انوارالعلوم (جلد 3) — Page 216
ر العلوم جلد - ۳ M19 وفات پا چکے ہیں بلکہ یہ کہ ایک شخص نے ان کے کمالات حاصل کرنے کے باعث ان کے نام پالتے ہیں۔پس اگر کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ ایک جسم میں اتنے آدمیوں کی ارواح کیونکر آگئیں تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ ہم تو تایخ کے قائل ہی نہیں پھر ہم کیونکر یہ عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص میں متعدد آدمیوں کی ارواح حلول کر گئی ہیں۔پس ہم پر ایسا اعتراض کرنے والا صرف ہمارے عقائد سے ناواقف ہونے کے باعث ایسا اعتراض کرتا ہے۔پس جبکہ ہم تاسخ کی رو سے کسی کا دوبارہ آنا نہیں مانتے اور یہ بھی نہیں مانتے کہ کوئی مر کر دوبارہ اس دنیا میں آ سکتا ہے۔کیونکہ قرآن شریف اس بات کو بڑے زور سے رد کرتا ہے تو پھر ہمارے اس عقیدہ پر کہ ایک شخص نے کئی نبیوں کے نام حاصل کر لئے ہیں کیا اعتراض پڑ سکتا ہے۔ایک متعصب مسلمان جو یہ نہیں مانتا کہ بدھوں اور ہندوؤں کے مذہب میں بھی کوئی سچائی ہے وہ اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ کوئی کرشن اور کوئی بدھ مبعوث ہو کر نہیں آئے گا۔لیکن اس بات کا منکر نہیں ہو سکتا کہ ایک مہدی آخری زمانہ کی اصلاح کے لئے آنے والا ہے۔لیکن ایک صداقت پسند انسان کرشن اور بدھ کے آنے سے بھی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں اور ان کے آنے کی جو علامتیں مقرر کی گئی تھیں وہ پوری ہو رہی ہیں۔تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ نبی نہیں آئیں گے۔اگر ان تمام علامات کے ظاہر ہونے پر بھی کوئی شخص ان نبیوں کے دوبارہ آنے کا منکر ہی ہو تو اس کی مثال بالکل اس شخص کی ہوگی جو ایک جنگ میں شامل ہو کر زخمی ہو گیا تھا۔چونکہ بزدل اور بیوقوف آدمی تھا اس لئے تیر لگتے ہی بھاگ گیا بھاگتے ہوئے اپنے زخم سے خون بھی پونچھتا جاتا تھا۔اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ مجھے تیر لگنے والی بات جھوٹ ہی ہو۔پس جب پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں تو کیسا نادان ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ ہندوؤں میں کرشن یا بدھوں میں بدھ کے آنے والی خبر جھوٹ ہے۔وہ شخص بعینہ اسی قسم کا ہے جو خون بھی پونچھتا جائے اور کہے کہ الہی جھوٹ ہی ہو۔یہ پیشگوئیاں ضرور بچی ہیں اور نبیوں کا کلام ہیں۔کیونکہ خدا تعالی کی طرف سے جو کلام ہوتا ہے وہ سچا ہوتا ہے اور جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔پس جبکہ ہم ان پیشگوئیوں کو بھی جھوٹا نہیں کہہ سکتے اور تناسخ کے بھی قائل نہیں ہیں۔تو اب ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ چونکہ کہا گیا ہے کہ کرشن آئے گا۔