انوارالعلوم (جلد 3) — Page 182
TAY انوار خلافت اور ایسے احمدی بھی جو قادیان کم آتے تھے ان کے دھوکے میں آجاتے تھے۔اب بھی ہمارے مخالف میری نسبت اور قادیان کے دوسرے دوستوں کی نسبت جھوٹی باتیں مشہور کرتے ہیں کہ سب اموال پر انہوں نے تصرف کر لیا ہے اور حضرت صاحب کو حقیقی نبی (جس کے معنی حضرت مسیح موعود نے تشریعی نبی کئے ہیں) مانتے ہیں اور نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم اے کی ہتک کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے ان میں سے بعض ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ایک رئیس نے مسجد کوفہ میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک تقریر کی اور سمجھایا لیکن دوسرے لوگوں نے انہیں کہا کہ اب فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے۔اب اس کا علاج سوائے تلوار کے کچھ نہیں۔اس ناشکری کی سزا اب ان کو یہی ملے گی کہ یہ زمانہ بدل جائے گا اور بعد میں یہ لوگ خلافت کے لوٹنے کی تمنا کریں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہوگی۔پھر سعید بن العاص ان کو سمجھانے گئے انہوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ سے راضی نہیں۔تیری جگہ پر اور گورنر طلب کریں گے انہوں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات کے لئے اس قدر شور کیوں ؟ ہے۔ایک آدمی کو خلیفہ کی خدمت میں بھیج دو کہ ہمیں یہ گورنر منظور نہیں وہ اور بھیج دیں گے۔اس بات کے لئے اس قدر اجتماع کیوں ہے ؟ یہ بات کہہ کر سعید نے اپنا اونٹ دوڑایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عثمان کو سب حالات سے آگاہ کیا۔آپ نے فرمایا کے گورنر بنانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا۔ابو موسیٰ اشعری کو۔فرمایا ہم نے ان کو گورنر مقرر کیا اور ہم ان لوگوں کے پاس کوئی معقول عذر نہ رہنے دیں گے۔جب حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے سب لوگوں کو جمع کر کے اس خبر سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا تو آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک کہ تم آئندہ کے لئے توبہ نہ کرو اور حضرت عثمان کی اطاعت کا وعدہ نہ کرو میں تمہاری امامت نہ کروں گا اور تم کو نماز نہ پڑھاؤں گا۔انہوں نے وعدہ کیا تب آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔لیکن فتنہ اس پر بھی ختم نہ ہوا کیونکہ ان لوگوں کی اصل غرض تو خلافت کا اڑانا تھا۔عمال و حکام کی تبدیلی تو صرف ایک بہانہ اور حضرت عثمان کے مظالم (نعوذ باللہ ) کا اظہار ایک ذریعہ تھے جس سے وہ لوگ جو مدینہ آتے جاتے نہ تھے اور اس برگزیدہ اور پاک انسان کے حالات سے آگاہ نہ تھے وہ دھوکے میں آجاتے تھے اور اگر وہ خود آکر حضرت عثمان کو دیکھتے تو کبھی ان شریروں کے دھوکے میں نہ آتے اور اس فساد میں نہ پڑتے۔