انوارالعلوم (جلد 3) — Page 181
JAI انوار العلوم جلد ۳۰ طور پر جائیں کہ کیا عمدہ کام کرتے ہیں لیکن اصل میں تمہاری غرض ان وعظوں سے یہ ہو کہ اس طرح لوگوں کے دل جب مائل ہو جائیں تو انہیں اپنا ہم خیال بناؤ۔یہ نصیحت کر کے اس نے اپنے واعظ چاروں طرف پھیلا دیئے۔غرض ان لوگوں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ سادہ لوح لوگوں کے لئے بات کا سمجھنا بالکل مشکل ہو گیا۔اور فتنہ بڑے زور سے ترقی کرنے لگا۔اور عام مسلمان خلافت عثمان سے بدظن ہو گئے اور ہر جگہ یہی ذکر لوگوں کی زبانوں پر رہنے لگا کہ ہم تو بڑے مزے میں ہیں۔باقی علاقوں کے لوگ بڑے بڑے دکھوں میں ہیں۔بصرہ کے لوگ خیال کرتے کہ کوفہ اور مصر کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں اور کوفہ کے لوگ سمجھتے کہ بصرہ اور مصر کے لوگ سخت دکھ میں ہیں حالانکہ اگر وہ لوگ آپس میں ملتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ شریروں کی شرارت ہے ورنہ ہر جگہ امن و امان ہے۔ہر جماعت دوسری جماعت کو مظلوم قرار دیتی تھی حالانکہ مظلوم کوئی بھی نہ تھا۔اور ان سازشیوں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اپنے ہم خیالوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیتے تھے تار از ظاہر نہ ہو جائے۔آخر یہ فساد بڑھتے بڑھتے خیالات سے عمل کی طرف لوٹا۔اور لوگوں نے یہ تجویز کی کہ ان گورنروں کو موقوف کروایا جائے۔جن کو حضرت عثمان نے مقرر کیا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمان" کے خلاف کوفہ کے لوگوں کو اکسایا گیا اور وہاں فساد ہو گیا۔لیکن بعض بڑے آدمیوں کے سمجھانے سے فساد تو دب گیا۔مگر فساد کے بانی مبانی نے فورا ایک آدمی کو خط دے کر حمص روانہ کیا کہ وہاں جو جلا وطن تھے ان کو بلا لائے۔اور لکھا کہ جس حالت میں ہو فورا چلے آؤ کہ مصری ہم سے مل گئے ہیں۔وہ خط جب ان کو ملا تو باقیوں نے تو اسے رد کر دیا۔لیکن مالک بن اشتر بگڑ کر فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔اور تمام راستہ میں لوگوں کو حضرت عثمان اور سعید بن العاص کے خلاف اکسانا گیا اور ان کو سنا تا کہ میں مدینہ سے آرہا ہوں۔راستہ میں سعید بن العاص سے ملا تھا وہ تمہاری عورتوں کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ مجھے اس کام سے کون روک سکتا ہے۔اسی طرح حضرت عثمان کی عیب جوئی کرتا۔جو لوگ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کے واقف نہ تھے اور مدینہ آنا جانا ان کا کم تھا وہ دھوکے میں آتے جاتے تھے اور تمام ملک میں آگ بھڑکتی جاتی تھی عقلمند اور واقف لوگ سمجھاتے لیکن جوش میں کون کسی کی سنتا ہے۔اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود کے خلاف لوگ قسم قسم کے جھوٹ مشہور کرتے تھے