انوارالعلوم (جلد 3) — Page 166
العلوم جلد +۔144 انوار خلافت رہی ہے وہاں کیوں نہیں جاتے۔انہوں نے کہا میرے کان میں رسول کریم ﷺ کی آواز آئی ہے کہ بیٹھ جاؤ پس میں نہیں بیٹھ گیا۔(ابود اور کتاب الصلوۃ باب الامام يكلم المرجل في خطبته ) پھر ان کے سامنے یہ نظارہ نہ ہو گا کہ آنحضرت ا کی مجلس میں تین شخص آئے ایک کو آگے جگہ مل گئی وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا دوسرے کو آگے جگہ نہ ملی وہ جہاں کھڑا تھا وہیں بیٹھے گیا۔تیسرے نے خیال کیا کہ یہاں آواز تو آتی نہیں پھر ٹھرنے سے کیا فائدہ وہ واپس چلا گیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک نے تمہاری مجلس میں قرب حاصل کرنے کے لئے کوشش اور محنت کی اور آگے ہو کر بیٹھ گیا خدا تعالیٰ نے بھی اسے قریب کیا۔ایک اور آیا اس نے کہا اب مجلس میں آگیا ہوں اگر اچھی جگہ نہیں ملی تو نہ سہی وہیں بیٹھ گیا اور اس نے واپس جانا مناسب نہ سمجھا خدا نے بھی اس سے چشم پوشی کی۔ایک اور آیا اسے جگہ نہ ملی اور وہ واپس پھر گیا خدا تعالیٰ نے بھی اس سے مونہہ پھیر لیا۔بخاری کتاب العلم باب من قعد حيث ينتهى به المجلس ومن رأى فرجة في الحلقة مجلس منها اس قسم کی باتیں نبیوں کی ہی صحبت میں رہ کر حاصل ہو سکتی ہیں۔لیکن انہوں نے اس قسم کے نظارے نہ دیکھے ہوں گے پھر انہوں نے وہ محبت کی گھڑیاں نہ دیکھی ہوں گی جو آپ نے دیکھی ہیں۔انہوں نے اطاعت اور فرمانبرداری کے وہ مزے نہ اٹھائے ہوں گے جو آپ نے اٹھائے ہیں۔انہیں حضرت مسیح موعود سے وہ پیار نہ ہو گا جو آپ لوگوں کو ہے۔انہوں نے وہ نشانات نہ دیکھے ہوں گے جو آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود کے ساتھ رہ کر دیکھے ہیں۔انہیں حضرت مسیح موعود کا وہ پیار اور محبت سے دیکھنا اور باتیں کرنا نصیب نہ ہو گا جو آپ لوگوں کو ہوا ہے۔ان کے دلوں میں اطاعت اور فرمانبرداری کا وہ جوش نہ ہو گا جو آپ لوگوں کی کے دلوں میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جن کے سینے خدا تعالیٰ خاص طور پر خود کھول دے۔اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام کے بعد بھی ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے پہلوں کی طرح ایمان اور یقین حاصل کر لیا تھا اور ان جیسی ہی صفات بھی پیدا کر لی تھیں۔مثلاً امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد بن قبل " امام ابو حنیفہ ، شیخ عبد القادر جیلانی ، شهاب الدین سهروردی ، معین الدین چشتی و غیر ہم۔ان لوگوں نے محنتیں اور کوششیں کیں اس لئے ان کے دل پاک ہو گئے۔مگر جس کثرت سے صحابہ میں ایسے لوگ تھے اس کثرت سے بعد میں نہ ہو سکے۔بلکہ بعد میں کثرت ان لوگوں کی تھی جن میں بہت سے نقص موجود تھے اور قلت ان کی تھی جو صحابہ