انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 165

م جلد - ۳ ۱۶۵ اور ترقی کے وقت تنزل کے اسباب کو نہیں مٹاتا اس کی ہلاکت یقینی اور اس کی تباہی لازمی ہے۔نبیوں کی جماعتیں بھی اس فساد سے خالی نہیں ہوتیں اور وہ بھی جب ترقی کرتی ہیں اور ایسے لوگ ان میں داخل ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کی صحبت نہیں پائی ہوتی اور ان کا ایمان اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کا ہوتا ہے جو نبی کی صحبت میں رہے ہوتے ہیں اور جن کی تربیت بوجہ اس کے کہ وہ جماعت در جماعت آکر داخل ہوئے ہوتے ہیں نا مکمل ہوتی ہے تو ان میں بھی فساد شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار ان کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو توڑ دیتا ہے یا ان کی جڑ کو ایسا کھوکھلا کر دیتا ہے کہ آئندہ ان کی روحانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت قریب آگیا ہے اور وہ دن دور نہیں جبکہ افواج در افواج لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔مختلف ملکوں سے جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوں گی اور وہ زمانہ آتا ہے کہ گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر احمدی ہوں گے۔اور ابھی سے مختلف اطراف سے خوشخبری کی ہوائیں چل رہی ہیں۔اور جس طرح خدا کی یہ سنت ہے کہ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ غافل لوگ آگاہ ہو جائیں اور اپنے مال و اسباب کو سنبھال لیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہماری ترقی کی ہوائیں چلا دی ہیں پس ہوشیار ہو جاؤ۔آپ لوگوں میں سے خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے آپ کے مونہہ سے باتیں سنی ہیں آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے۔ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا۔دیکھو اسی جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے لوگ آئے ہیں کہ ان سب تک مشکل سے میری آواز پہنچ سکتی ہے مگر جب لاکھوں اور کروڑوں انسان آئے تو انہیں کون ایک شخص نا سکے گا۔لیکن جتلاؤ اگر ایک ہی سنانے والا ہوا تو یہ کیسا درد ناک نظارہ ہو گا کہ کچھ لوگ تو سن رہے ہوں گے اور کچھ لوگ پکوڑے کھا رہے ہوں گے۔وہ سنیں گے کیا اور یہاں سے لے کر جائیں گے کیا۔وہ اس اطاعت سے واقف نہ ہوں گے جو انبیاء لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک دفعہ رسول کریم ال تقریر فرما رہے تھے آپ نے لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھے جاؤ۔عبد اللہ بن مسعود ایک گلی میں چلے آرہے تھے آپ کی آواز انہوں نے وہاں ہی سنی اور وہیں بیٹھ گے۔کسی نے پوچھا آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ کی تقریر ہو