انوارالعلوم (جلد 3) — Page 164
انوار خلافت ۱۶۴ F۔کر چکے ہیں کیونکہ ان تجربات کا نتیجہ ایسا خطرناک تھا کہ اگر جوان سنے تو بوڑھا ہو جائے اور اگر سیدھی کمر والا سنے تو اس کی کمر ٹیڑھی ہو جائے۔اور اگر کالے بالوں والا سنے تو اس کے بال سفید ہو جائیں وہ بہت تلخ اور کڑوے تجربے تھے اور از حد دل ہلا دینے والے واقعات تھے وہ نہایت پاک روحوں کے شریروں اور بد باطنوں کے ہاتھ سے قتل کے نظارے تھے۔وہ ایسے درد انگیز حالات تھے کہ جن کو سن کر مومن کا دل کانپ جاتا ہے۔اور وہ ایسے روح فرسا منظر تھے کہ جن کو آنکھوں کے سامنے لانے سے کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔انہی کی سزا میں مسلمانوں میں اس قدر فتنہ اور فساد پڑا کہ جس نے انہیں تباہ کر دیا۔حضرت عثمان کو جو آدمی قتل کرنے آئے تھے ان کو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میرے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔تو یاد رکھنا کہ مسلمان جو اس وقت اس طرح پیوستہ ہیں جیسے دو کنگھیوں کے دندانے ہوتے ہیں بالکل جدا ہو جائیں گے اور ایسے جدا ہوں گے کہ قیامت تک انہیں کوئی نہ اکٹھا کر سکے گا۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے بھی اس فتنہ کے بانیوں سے بیان کیا کہ میں نے بنی اسرائیل کی بعض کتب میں دیکھا ہے کہ ایک نبی ہو گا اس کے بعد اس کے خلفاء ہوں گے اس کے خلیفہ ثالث کے خلاف لوگ فساد کریں گے اگر وہ اس کے مارنے پر کامیاب ہو گئے تو اس کی سزا ان کو یہ دی جائے گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے پراگندہ کر دیئے جائیں گے اور پھر کوئی تدبیران کو جمع نہ کر سکے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ فتنہ اتنا پھیلا اتنا پھیلا کہ سوائے مسیح موعود علیہ السلام کے کوئی اس کو روک نہ سکا۔اور مسلمان جو ٹوٹ چکے تھے انہیں کوئی نہ جوڑ سکا۔پس تم لوگ یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو۔پہلوں سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جو بد ظنیاں پھیلانے والے تھے۔حالانکہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جاتی ہے۔اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بد ظنی پھیلاتا ہے۔اور جب تک کہ با قاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس کا پھیلانے والا اور لوگوں کو سنانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور متفنی ہے۔پس تم لوگ تیار ہو جاؤ تاکہ تم بھی اس قسم کی کسی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ کیونکہ اب تمہاری فتوحات کا زمانہ آرہا ہے اور یاد رکھو کہ فتوحات کے زمانہ میں ہی تمام فسادات کا بیج بویا جاتا ہے۔جو اپنی فتح کے وقت اپنی شکست کی نسبت نہیں سوچتا اور اقبال کے وقت ادبار کا خیال نہیں کرتا