انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xix

انوار العلوم جلد ۳ ۱۲ تعارف کتب ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان نہ صرف گناہوں سے نجات حاصل کرتا بلکہ "مفلح" یعنی مظفر و منصور ہوتا ہے اور پیدائش انسانی کے مقصد کو بھی پالیتا ہے۔ اس طرح اسلام نے نجات کا وہی طریق بتایا ہے جو خدا تعالی کے کل انبیاء نے بتایا تھا۔ جسے بگاڑ دیا گیا۔ (9) سیرت حضرت مسیح موعود جماعت کی روز افزوں ترقی اور اکناف عالم میں پھیلنے والی لہر کو دیکھ کر بہت ۔ بہت سے لوگوں کو بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے حالات سے آگاہی کا خیال پیدا ہونا ایک ضروری اور طبعی امر ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر اور اس وجہ سے بھی کہ ابتدائی حالت میں مفصل و مبسوط کتب کا مطالعہ نئے شامل ہونے والوں کے لئے مشکل نہ ہو حضور نے نومبر ۱۹۱۶ء میں مختصر سیرت حضرت مسیح موعود تصنیف فرمائی جس میں آپ نے حضرت مسیح موعود کے حالات آپ کی سیرت آپ کا دعوئی اور دلائل، مشکلات اور حضرت مسیح موعود کی چند پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا۔ (۱۰) پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے قلم مبارک سے نکلی ہوئی اس تحریر کا پس منظر یہ ہے کہ غیر مبالعین حضرت مصلح موعود پر طرح طرح کے الزامات لگاتے رہتے تھے۔ چنانچہ ۱۹۱۶ء کے پیغام صلح کے ایک پرچہ میں حضور پر نہایت گندے، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے جن کے جوابات حضرت مصلح موعود نے ۱۰ ستمبر ۱۹۱۶ء کو تحریر فرمائے جو ۱۶ ستمبر ۱۹۱۶ء کے الفضل میں شائع ہوئے۔ حضور نے الزامات کی تردید کرنے کے بعد تحریر فرمایا۔ " جو شخص مجھ پر اعتراض کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے ڈرے کہ وہ نہیں مرے گا جب تک اس پر بھی یہ الزام نہ لگایا جائے ۔ اس دنیا کا (میں) محب نہیں بلکہ اس سے نفرت کرنے والا ہوں۔ اور وہی شخص اس دنیا کی محبت کا الزام مجھ پر لگا سکتا ہے جس کا دل خود اس گند میں ملوث ہے۔ میرے لئے یہ بس ہے کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہو۔ میرے مخالفین کے ناپاک حملوں نے نہ پہلے میرا کچھ بگاڑا ہے اور