انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 128

م جالند ۱۲۸ غرض کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو اس طرح آپ کی تعریف ہوتی ہے لیکن یہ عجیب تعریف ہے۔مثلاً ایک مدرس کی یوں تعریف کی جائے کہ اس کے پڑھائے ہوئے لڑکے کبھی پاس نہیں ہوتے بلکہ فیل ہی ہوتے ہیں اور اگر پاس بھی ہوتے ہیں تو بہت ادنی درجہ پر۔کیا یہ اس کی تعریف ہوگی اور اس سے اس کی عزت بڑھے گی۔یہ تو اس پر ایک بہت بڑا حملہ ہو گا۔اسی طرح مسلمان کہتے ہیں کہ بیشک آنحضرت ا تمام انبیاء کے سردار ہیں تمام سے بلند درجہ رکھتے ہیں اور تمام سے کمالات میں بڑھے ہوئے ہیں لیکن اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ آپ کے شاگرد کبھی اعلیٰ درجہ نہیں پاتے۔اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی سخت ہتک کرتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ہم پر الزام دیتے ہیں کہ تم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے۔لیکن در حقیقت وہ آپ کی ہتک کر رہے ہیں۔اور وہ جو رحمتہ للعالمین ہے اس کو عذاب للعالمین ثابت کرتے ہیں۔ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ ہم آنحضرت ا کی کچی عزت اور تعریف کرتے ہیں۔اور ہم عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ا کی وہ عزت ہے کہ اس کا غلام بھی تمہارے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔لیکن دوسرے لوگوں کو یہ فخر حاصل نہیں ہے۔بھلا بتلاؤ ایک بادشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے یا شہنشاہ کا۔ہر ایک جانتا ہے کہ شہنشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔تو رسول اللہ کی نسبت خیال کرو کہ ہم آپ کی یہ شان بیان کرتے ہیں کہ آپ کی غلامی میں نبی آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ دوسرے تمام نبی بادشاہ کی مانند ہیں اور آنحضرت شہنشاہ۔کیونکہ آپ کے فیض سے نبی بن سکتے ہیں۔یہی تو آپ کی عزت ہے جو خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔آپ انبیاء کی مہر ہیں جس پر آپ کی ہو۔مہر لگی وہی نبی ہوگا۔اس مسئلہ کے متعلق خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں لیکن اس وقت بیان کرنے کا موقعہ نہیں مگر یہ بات خوب یاد رکھو کہ یہ مانا کہ آنحضرت ا کے فیض سے آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے آپ کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے اور یہ آپ پر حملہ نہیں بلکہ آپ کی شان کو بلند کرنا ہے۔ہاں یہ کہنا بہتک ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا یہ ایک حیرانی کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو رسول آئے ان کے ماننے والوں نے ان کو وہ درجہ دے دیا۔جو خدا تعالیٰ نے ان کو نہ دیا تھا لیکن آج ایسے بد بخت ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کو مانتے ہیں مگر آپ کو خدا تعالیٰ نے جو درجہ دیا تھا وہ بھی چھین لینا چاہتے