انوارالعلوم (جلد 3) — Page 120
علوم جلد ۳ انوار خلافت قابل تسلیم نہیں لیکن اگر انہی کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو بات کسی نبی کی نسبت قرآن کریم میں مذکور ہو وہ نبوت کی شرط ہوتی ہے اور اگر یہ تسلیم کیا گیا تو نہایت مشکل پیش آئے گی۔کیونکہ ایسی باتیں نکلیں گی جو قرآن کریم میں بعض انبیاء کے متعلق بیان ہیں اور دوسروں کی نسبت بیان نہیں اور نہ ان میں وہ پائی جاتی تھیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ نبی ہی نہ تھے مثلاً حضرت داؤد کی نسبت آتا ہے ان کو ہم نے زرہ بنائی سکھائی تھی۔تو زرہ بنانی بھی شرائط نبوت میں داخل کرنی پڑے گی۔اور چونکہ ہمارے نبی کریم یہ فن نہ جانتے تھے اس لئے آپ کی نبوت گو یا باطل ہو گئی۔نعوذ باللہ من ذالک۔پس یہ اصل ہی باطل ہے کہ جو بات ایک نبی کے متعلق بیان ہو وہ سب نبیوں میں پائی جانی چاہئے اور وہ شرائط نبوت میں سے ہونی چاہئے۔لیکن ہم اس باطل کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور فی الحال مان لیتے ہیں کہ نبی وہی ہے جس کے نام کا پہلے کوئی اور شخص نہ گذرا ہو۔اور ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں جن نبیوں کا ذکر آتا ہے ان کے نام کے آدمی پہلے بھی گذرے ہیں چنانچہ ذکر یا ایک نبی ہیں اور قرآن شریف نے ان کو نبی قرار دیا ہے لیکن ان سے چار سو سال پہلے ایک نبی ہوئے ہیں ان کا نام بھی زکریا تھا۔اور ان کی کتاب اب تک بائبل میں موجود ہے۔پھر اسی طرح حضرت یحی" کے نام کے پہلے پانچ آدمی گزر چکے تھے جن کا ذکر بائبل میں موجود ہے جن میں سے ایک حضرت داؤد سے بھی پہلے ہوئے ہیں۔اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ پھر اس آیت کے کیا معنی ہوئے۔میں کہتا ہوں لوگوں نے اس کے معنی غلط سمجھے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ بشارت کے طور پر ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔لیکن مشکل رہی ہے کہ اس زمانہ میں جمال علماء بن گئے ہیں اور حقیقی علم ان سے چھین لیا گیا ہے اس لئے اس قسم کی باتیں مونہہ پر لاتے ہیں۔، پھر اس معیار کے ماتحت تو حضرت مسیح کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوتی۔کیونکہ ان کا نام یسوع ہے اور اس نام کا ایک اور شخص بھی تھا جس کو یسوع بن سائرس کہتے ہیں۔اس کی کتاب بھی اپو کر فاس میں موجود ہے۔(یعنی بائبل کا وہ حصہ جسے بعض لوگ بائبل میں شامل سمجھتے ہیں۔اور بعض نہیں اور وہ الگ چھپا ہوا ہے اور جو لوگ اسے بائبل کا حصہ مانتے ہیں ان کی چھاپی ہوئی بائبلوں میں موجود بھی ہے) تو اب کیا حضرت مسیح سے پہلے یسوع نام کا ایک اور شخص ثابت ہو جانے سے آپ کی نبوت باطل ہو گئی۔پھر بڑے تعجب اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ