انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 107

انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۰۷ انوار خلافت ہے جو اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتا ہے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ پس اس جگہ آنحضرت ﷺ کے دشمنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ اسلام کی طرف بلائے جاتے تھے۔ یہ خیال ابتداء بیشک خوش کن معلوم ہوتا ہے لیکن قرآن کریم پر ایک ادنیٰ غور کرنے سے اس کی غلطی معلوم ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس جگہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے کیونکہ انتزاء کہتے ہی اس بات کو ہیں جو جان بوجھ کر بنائی جائے اور کذب اور افتراء میں یہ فرق ہے کہ کذب اس کو بھی کہیں گے جو بات غلط ہو خواہ اس شخص نے خود نہ بنائی ہو بلکہ کسی سے سنی ہو۔ مثلاً ایک شخص کسی سے سن کر کہے کہ زید لاہور چلا گیا ہے اور وہ گیا نہ ہو۔ تو وہ کاذب ہے مفتری نہیں لیکن اگر اس نے خود اپنے دل سے یہ بات بنائی ہو تو وہ کاذب بھی ہے اور مفتری بھی ہے ۔ پس چونکہ آیت کریمہ میں افتری على الله کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت A کوئی بات کہتا ہے۔ یعنی مدعی ہے اور قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی منکر کی نسبت مُفتری عَلَی اللہ کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ جب استعمال ہوا ہے۔ مدعی کی نسبت ہی ہوا ہے چنانچہ کفار کی نسبت بھی جب یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے تو پہلے ان کا دعوی بیان کیا ہے ۔ غرض افتری عَلَی اللہ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی مدعی ہے۔ اب ہم ان آیات کو دیکھتے ہیں تو ان میں کفار کا کوئی دعوی ایسا بیان نہیں جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوں بلکہ صرف ان کا انکار بیان ہے اور منکر کی نسبت مُفتَرِی عَلَی اللہ نہیں کہتے۔ پس کفار اس آیت میں مراد نہیں ہو سکتے۔ بلکہ مدعی رسالت کا ہی اس آیت میں ذکر ہے کہ اگر وہ خدا پر اس حالت میں جھوٹ بول رہا ہے کہ اسے اسلام کی طرف بھی بلایا جاتا ہے تو ہلاک کیوں نہیں ہو جاتا۔ آخر میں حجت پوری کرنے کے لئے میں یہ بھی تسلیم کر لیتا ہوں کہ کفار کا جو یہ قول نقل ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے یہ ان کا دعوئی ہے۔ گو کوئی رانا اسے دعوئی نہیں کہے گا بلکہ یہ انکار ہے تو بھی یہ آیت کفار پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ اس آیت میں افترای علی اللہ کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا دعوی خدا تعالیٰ کی نسبت ہے اور وہ جو بات کہتا ہے اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے لیکن یہ کہنا کہ فلاں شخص جو بات کہتا ہے یہ قریب ہے اگر اسے دعوئی ہی مان لیا جائے تو یہ افتراء تو کہلا سکتا ہے افْتَرَی عَلَی اللهِ نہیں