انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 88

انوار العلوم جلد ۳۰ ^^ انوار خلافت ہو سکتے ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔دوسری صورت یہ تھی کہ اِشعُه اَحْمَدُ والی پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ ہو تا جس کی وجہ ہم کسی غیر پر اسے چسپاں نہ کر سکتے مثلاً یہ لکھا جاتا کہ وہ خاتم النبیین ہوگا اور چونکہ خاتم النبیین صرف رسول کریم ہی ہیں اور ایک ہی شخص خاتم النبیین ہو سکتا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے تھے کہ گو بعض نشانات آپ کے وقت میں اپنے ظاہر الفاظ میں پورے نہیں ہوئے لیکن جبکہ ایک ایسی صریح علامت موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور میں پائی ہی نہیں جا سکتی تو ان باتوں کی کوئی اور تادیل ہوگی اور بہر حال یہ پیشگوئی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے لیکن یہ بات بھی نہیں۔اس پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ پیشگوئی خاتم النبین کے متعلق ہے۔نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیشگوئی ضرور آنحضرت ا پر چسپاں کرنی پڑے۔سوم باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرما دیا ہو تا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ کچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیشگوئی کو آنحضرت ا ا پر چسپاں کریں۔ایک چوتھی مجبوری بھی ہو سکتی تھی جس کی وجہ سے ہم یہ آیت رسول کریم پر چسپاں کرنے کے لئے مجبور تھے اور وہ یہ کہ انجیل میں صرف ایک ہی نبی احمد کی خبر دی گئی ہوتی۔اس صورت میں واقعہ میں مشکل تھی کہ اگر اس پیشگوئی کو ہم کسی اور شخص پر چسپاں کر دیتے تو رسول کریم مسیح کے موعود نہ رہتے حالانکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ حضرت مسیح ناصری کے موعود ہیں۔لیکن انجیل میں ہم دو نبیوں کے آنے کی خبر پاتے ہیں۔ایک وہ نبی جو تمام نبیوں کا موعود ہے اور جس کا آنا گویا خدا تعالیٰ کا آنا قرار دیا گیا ہے۔اور دوسرے مسیح کی دوبارہ آمد۔اور بتایا گیا ہے کہ پہلے "وہ نبی " آئے گا۔پھر مسیح دوبارہ آئے گا اور ان دونوں پیشگوئیوں میں