انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 86

انوار العلوم جلد ۳۰ ۸۶ انوار خلافت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جب عیسی بن مریم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں اور ان باتوں کی تصدیق کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کی گئی ہیں تو رات ہے۔ اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہو گا۔ اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعوٹی ہے اور میں نے یہ دعوی یونہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درس کے نوٹوں میں میں چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں ہاں پہلے پہل جب حضرت خلیفہ اول سے یہ بات میں نے سنی تو ابتداء اسے قبول نہ کیا اور بہت کچھ اس کے متعلق بحثیں ہوتی رہیں لیکن جب میں نے اس پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق میرا سینہ کھول دیا اور دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ عنایت فرما دیے اور میں نے اس خیال کو قبول کر لیا۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ اپنی قوم میں آئے اور ان کی قوم نے انہیں رکھ دیئے تو انہوں نے کہا کہ میں خدا کی طرف سے تمہارے پاس رسول ہو کر آیا ہوں مجھے قبول کر لو لیکن جب انہوں نے قبول نہ کیا اور کجی اختیار کی تو خدا تعالٰی نے بھی ان کے دلوں کو سچ کر دیا۔ اس ذکر کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے تمام انبیاء کا ذکر چھوڑ دیا ہے اور صرف حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیح آئے تھے اس طرح آنحضرت اللہ کے تیرہ سو سال بعد جو مثیل موسیٰ ہیں مسیح موعود آئے گا اور اِسْعَةً أَحْمَدُ کا جملہ اس کو صاف کر دیتا ہے کیونکہ آنحضرت اللہ کا نام احمد نہ تھا بلکہ محمد " تھا۔ چنانچہ اس آیت زیر بحث کو چھوڑ کر جس میں رسول اللہ کو احمد کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا بلکہ صرف حضرت مسیح کی ایک پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو خود زیر بحث ہے کسی جگہ بھی قرآن کریم میں آنحضرت لا کو احمد نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ اگر انحضرت کا نام احمد ہوتا اور جیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں والدہ کو الہام کے