انوارالعلوم (جلد 3) — Page 79
انوار العلوم جلد ۳۰ 29 اتوار خلافه جماعت میں دن بدن ایسی برکتیں ڈال رہا ہے کہ ہمارے ہاتھ جو کچھ انتظام کرتے ہیں اور ہمارے دل جو کچھ سوچتے ہیں اس سے بہت بڑھ کر خدا کی مخلوق آجاتی ہے۔ہم ہر سال یہ سمجھتے ہیں کہ بس اس قدر مکانات اور دیگر اسباب کافی ہوں گے۔خدا تعالیٰ ان کو ناکافی ثابت کر دیتا ہے۔اس دفعہ ہمارے منتظمین نے جلسہ کے لئے جو تیاری کی تھی وہ بہ نسبت پہلے کے بہت زیادہ تھی لیکن خدا تعالیٰ نے آنے والوں میں ایسی برکت ڈالی ہے کہ وہ ناکافی نکلی ہے اور دن بدن خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم زیادہ سے زیادہ نازل ہو رہے ہیں۔ہماری ہر سال کی یہ ترقی ظاہر کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے خاص الخاص فضل ہم پر ہو رہے ہیں اور وہ دن جلد آنے والے ہیں کہ ہماری ترقی کو دیکھ کر مخالف لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور نشانات دیکھ کر محو حیرت ہو جائیں گے۔اور وہ لوگ دیکھیں گے جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ سلسلہ مٹ جائے گا کہ خود مٹ گئے ہیں اور اسی دنیا میں ان پر موت وارد ہو گئی ہے۔لیکن یہ سلسلہ ترقی پر ترقی کر رہا ہے۔غرض ایک طرف خدا کی یہ برکتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ جو لوگ یہاں آئیں ان کو ہم کچھ باتیں سنائیں اور ان کے فرائض سے ان کو آگاہ کریں اس لئے اب لیکچراروں کو بولنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا پڑتا ہے تاکہ سب کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے لیکن پھر بھی نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے میرا ارادہ ہے کہ آئندہ لیکچروں کے لئے یہ تدبیر کی جائے کہ لیکچر کسی بند مکان میں نہ ہوں جیسا کہ اس سال ہال میں تجویز تھی بلکہ کھلے میدان میں ہوں اور وہ اس طرح کہ ایک احاطہ بنایا جائے جس کی اطراف کو ڈھلوان کر دیا جائے۔اس طرح بہت سے لوگ لیکچرار کی آواز کو اچھی طرح سن سکیں گے۔یورپ میں اسی طرح کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ آواز کو سن سکتے ہیں حتی کہ دس دس ہزار آدمیوں کا مجمع بھی آسانی سے لیکچر سن سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس جلسہ کے بعد اس لیکچر گاہ کے بنانے کی تجویز کروں گا۔اس صورت میں عورتوں کے لئے بھی انتظام ہو عورتوں کے لئے انتظام کرنا چاہا تھا اور اسی غرض کے لئے سکول کے ہال میں جلسہ کا انتظام کیا گیا تھا لیکن جگہ ناکافی ہوئی اور پھر گھر پر ہی عورتوں کے لیکچروں کا انتظام کرنا پڑا۔پس اگر خدا تعالی نے توفیق دی تو آئندہ سال اس طرح جلسہ گاہ کا انتظام کیا جائے گا۔انتظام جلسہ کے متعلق اس قدر کہنے کے بعد میں اپنے مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔اس دفعہ میرا منشاء یہ تھا کہ جب جلسہ پر دوست و احباب آئیں تو میں بعض ایسی باتیں جو بہت ضروری ہیں ان کے سامنے بیان کروں سکتا ہے۔