انوارالعلوم (جلد 3) — Page 50
انوار العلوم جلد - ۳ پیغام مسیح موعود الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ، يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - ( الفل : (1) اللہ حکم دیتا ہے تمہیں عدل کا۔عدل برابری کو کہتے ہیں۔جس میں نہ کمی پائی جائے نہ زیادتی۔پھر اللہ حکم دیتا ہے احسان کا۔یعنی نہ صرف یہ کہ انسان جس طرح اپنی چیزوں کو محفوظ رکھتا ہے۔اسی طرح دوسروں کی چیزوں کو رکھے۔بلکہ یہ کہ محتاج کو اپنی دے دے۔یہاں خدا تعالٰی نے کسی مسلمان، ہندو، عیسائی وغیرہ کی شرط نہیں لگائی۔کہ فلاں کو تم دو اور فلاں کو نہ دو۔عام طور پر فرما دیا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ خواہ کوئی کسی مذہب کا ہو اس سے عدل کرو یعنی جس طرح تم یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی تمہارے مال کو لے تمہاری عزت کو برباد کرے تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے اسی طرح تم کسی کے ساتھ نہ کرو۔چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کا A يو من احد كم حتى يحب لا خيه ما يحب لنفسه (بخاری) کتاب الایمان باب من الايمان ان يحب يُحِبُّ لا خيه ما يحب لنفسه) کہ تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔پس مؤمن کی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جس کے ضرر سے ساری دنیا محفوظ رہے اور جس طرح وہ اپنی جان کے لئے پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کی خیانت کرے۔وہ بھی کسی کی نہ کرے اور جس طرح وہ اپنے لئے یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کی غیبت کرے اس کے سامنے جھوٹ بولے اسے نقصان پہنچائے اسی طرح وہ بھی کسی سے اس طرح نہ کرے۔پھر اللہ عدل کا ہی حکم نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ جو کسی کا حق دینا ہے اس سے بڑھ کر دو۔اور دوسروں کو شر سے ہی نہ بچاؤ بلکہ نعمت سے مالا مال کرو۔پھر إيتَانی ذِي الْقُربى کرو۔جس طرح ماں بچہ سے محبت بغیر کسی خواہش اور لالچ کے رکھتی ہے۔اسی طرح تمہار ا سب سے تعلق ہونا چاہئے۔اور کسی سے نیکی اور احسان کی امید اور توقع رکھ کر نہیں کرنا چاہئے اور منع کرتا ہے اللہ فحشاء سے یعنی ایسی بدیوں سے جو مکروہ ہیں۔یا ایسی باتیں ہیں جو نا پسندیدہ ہیں لیکن اپنے نفس کے متعلق ہیں۔لوگ ان کو نہیں جانتے اور پھر منکر سے منع کرتا ہے یعنی ایسی ناپسندیدہ باتوں سے جو ہیں تو اپنے نفس کے متعلق لیکن لوگ بھی انہیں جانتے ہیں اور برا مناتے ہیں۔اور بغی سے منع کرتا ہے یعنی ایسی برائی سے جو اپنے نفس سے گزر کر دو سروں پر بھی اثر کرتی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے نقصان پہنچتا ہے۔ان سب قسم کی بدیوں سے الله منع کرتا ہے۔غرض مؤمن کی تعریف قرآن کریم نے یہ بتائی ہے کہ اول تو وہ دوسروں کے ساتھ ایسا سلوک کرے جیسا پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ۔-