انوارالعلوم (جلد 3) — Page 610
انوار العلوم جلد ۳۰ 41۔زنده ند آسکتا تھا کہ ایسا ہو گا۔اور انسان کے نزدیک اس حکم کو بدلنا بالکل ناممکن تھا۔لیکن ہمارے مکرم معظم بادشاہ سلامت ولایت سے چل کر یہاں ہندوستان میں آئے اور ان کے ہاتھوں یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور اپنے الفاظ میں پوری ہوئی۔یعنی نہ تو بنگالیوں کی خواہش کو ان کی مرضی کے مطابق پورا کیا گیا اور نہ ہی انہیں مایوس رکھا گیا۔بلکہ دلجوئی کر دی گئی اور وہ اس طرح کہ مشرقی بنگال کو تو ساتھ ملا دیا گیا مگر صوبہ بہار کو جدا کر دیا گیا۔تو یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ اسلام زندہ مذہب ہے اور اس پر چلنے والوں کو خدا قبل از وقت خبر دیتا ہے۔اور ان سے کلام کرتا ہے۔اور اپنی زندگی کے ثبوت اب بھی پیش کرتا ہے۔کسی مذہب کے زندہ ہونے کا ایک اور بھی ثبوت ہے زندہ مذہب کا ایک اور ثبوت اور وہ یہ کہ اس پر چلنے والوں کو خدا کی نصرت اور تائید حاصل ہو۔دیکھئے جس کو کسی سے محبت ہو یا جس چیز سے پیار ہو وہ اس کی مدد کرتا ہے۔حتی کہ اس کی خاطر جان تک دے دیتا ہے۔بچہ کو اگر کوئی مارے تو ماں باپ کو بہت سخت تکلیف پہنچتی ہے۔یہی حال اور تعلقات کا ہے اور جس قدر انسان کو کسی سے زیادہ تعلق ہوتا ہے اسی قدر زیادہ وہ اس کی مدد اور تائید کی کوشش کرتا ہے۔تو محبت پیار اور تعلق کی کچھ علامتیں وتی ہیں۔جن سے دوسروں کو اس کا پتہ لگتا ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔انا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (المؤمن : (۵۲) کہ جن کو ہم سے تعلق اور محبت ہوتی ہے ان کی ہم اسی دنیا میں مدد اور تائید کرتے ہیں۔اس کے متعلق دوسرے مذاہب صرف قصے اور کہانیاں پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ خدا کی محبت تھی اور اس کی اس نے اس طرح مدد کی تھی۔اس کے دشمنوں کو ہلاک و تباہ کیا اور اسے کامیابی عطا کی تھی۔مگر ہم کہتے ہیں اس زمانہ میں تمہارے پاس خدا کی محبت کا کیا ثبوت ہے ؟ اس کا جواب کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا اور صرف قصے پیش کرتا ہے مگر ہم قصوں کو کیا کریں۔اس وقت جو مذہب ایک بھی ایسا آدمی نہیں پیدا کر سکتا جس کی خدا مدد کرتا ہو ، جس سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا ہو تو اس مذہب کا کیا فائدہ اور اس کے زندہ ہونے کا کیا ثبوت۔مگر اسلام ہر زمانہ میں ایسے انسان پیدا کرتا رہا ہے اور اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کو پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کی تائید اور نصرت کر کے بتا دیا ہے کہ خدا کا ان سے تعلق تھا۔کوئی کہے کہ وہ تو فوت ہو گئے ہیں اب اس کا کیا ثبوت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم