انوارالعلوم (جلد 3) — Page 605
۶۰۵ زنده در جب کھونے کے لئے تیار ہے۔لیکن اتنی جرات سوائے اس کے اور کوئی نہیں کر سکتا جسے اپنے دعوے پر پورا پورا یقین ہو۔چنانچہ دعوئی پورا ہوا اور آپ کو ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ دنیا کے دور دراز حصوں سے آپ کے ملنے کے لئے لوگ آئے حتی کہ آپ کی وفات سے ایک سال پہلے امریکہ سے تین آدمی آئے۔ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ صحیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مسیح تو معجزے دکھایا کرتا تھا آپ کیا معجزہ دکھاتے ہیں۔آپ نے فرمایا میرے معجزے کو دیکھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں تم خود ہی میرا معجزہ ہو۔اس پر اس نے کہا یہ کس طرح۔آپ نے فرمایا دیکھئے اس وقت جب کہ قادیان سے چل کر بھی لوگ میرے پاس نہ آتے تھے اس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ میرا نام دنیا میں مشہور کیا جاوے گا اور دور دور سے لوگ مجھے ملنے کے لئے آئیں گے۔اب بتائیے آپ نے میرا نام امریکہ میں منایا نہیں اور میرے ملنے کے لئے آئے یا نہیں۔یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا۔تو اللہ تعالی نے اس زمانہ میں اسلام کی زندگی کے ثبوت میں حضرت مرزا صاحب کو پیش کیا ہے۔اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ حضرت مرزا صاحب سے ان قوانین اور احکام پر چلنے کی وجہ سے جو اسلام نے بتائے ہیں خدا نے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے اتنی عزت دوں گا کہ تیرا نام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔اور لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔چنانچہ اس دعدہ کے بعد میں ہی سال میں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسی شہرت دی کہ دور دراز ممالک سے لوگ آپ کا پتہ صرف یہ لکھتے کہ انڈیا مرزا غلام احمد " تو آپ کو خط پہنچ جاتے۔پھر دنیا کے چاروں کونوں سے لوگ آپ کے ملنے کے لئے آئے۔اور وہی لوگ جو انسانوں کو قتل کر دینا بہت معمولی بات سمجھتے تھے آپ کے پاس آئے۔اور آپ کی بیعت میں داخل ہو کر با خدا انسان بن گئے۔ہمارے ایک دہائی دوست سناتے تھے کہ میں ایک دفعہ سرحد کی طرف گیا تو ایک پٹھان کھیتی کرتا ہوا ملا۔میں نے اسے السلام علیکم کہا۔اس کا اس نے جواب تو کوئی نہ دیا مگر کام چھوڑ کر ایک طرف کو بھاگ کھڑا ہوا۔دوسرے نے مجھے بتایا کہ یہاں سے جلدی چلے جاؤ وہ تمہارے مارنے کے لئے بندوق لینے گیا ہے۔تو یہ ان لوگوں کی حالت تھی۔اکثر تو دین سے ایسے ناواقف تھے کہ کلمہ تک نہیں پڑھ سکتے تھے۔مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک ہندو کو کسی پٹھان نے پکڑ لیا اور کہا مسلمان ہو جاور نہ جان سے مار ڈالوں گا۔پہلے تو اس نے انکار کیا۔لیکن جب دیکھا کہ جان کی خیر نہیں تو کہا میں مسلمان ہو تا ہوں مجھے کلمہ پڑھاؤ۔اس نے کہا تم خود ہی پڑھو ہندو نے