انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 35

دم جلد ۳۰ ۳۵ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب کرتے تھے۔لیکن باوجود اس کے ان پر سخت الزام لگایا گیا ہے۔پھر ہم حضرت مسیح موعود کے الہامات کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہ حکم پاتے ہیں کہ جو شخص اس کشتی میں نہیں بیٹھتا جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ہاتھوں سے تیار کروائی ہے یعنی احمدی جماعت میں داخل نہیں ہو تا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں اور اس کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا۔کہ مذکورہ بالا واقعات کے ہوتے ہوئے اگر میں -۵ پانچواں سوال آپ کا یہ ہے: آپ کو خطہ آپ کو خفیہ طور پر قبول کروں تو اس میں کچھ حرج نہیں ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں پہلے سوالوں کے جواب دے چکا ہوں جن میں میں نے بتایا ہے کہ ماموروں کا ماننا اور ان کی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی جماعت سے عظیم الشان ترقیوں اور انعامات کے وعدے کئے ہیں۔ان وعدوں کا حصہ دار انسان تب ہی ہو سکتا ہے جب ان کی جماعت میں شامل ہو۔مکرمی ! آپ سوچیں کہ اگر سب لوگ اسی طرح اپنے دل میں فیصلہ کر کے اپنی اپنی جگہ پر قائم رہیں تو وہ کام جو مسیح موعود کا ہے۔کس طرح پورا ہو۔آپ نے جو خیالات ظاہر فرمائے ہیں یہ دوسروں کے لئے بھی روک ہو سکتے ہیں۔پھر اسلام کا غلبہ جو مسیح موعود کے ہاتھ سے اللہ تعالی کرانا چاہتا ہے کیونکر ہو اور کھرے اور کھوٹے میں کیا امتیاز پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام حضرت مسیح موعود کو بیعت لینے پر مقرر فرمایا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء جو غیر مامور تھے ان کی بیعت کی نسبت بھی صحابہ کو اس قدر اصرار تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے زیادہ دیر بغیر ایک امام کے رہنے کو پسند نہ کیا اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور جس شخص نے بیعت نہ کی اس سے بالکل قطع تعلق کر لیا اور کلام تک چھوڑ دیا۔پس جب یہ غیر مامور خلفاء کا حال ہے تو مأمور خلیفہ اور مسیح موعود اور امت محمدیہ کے درخشندہ گو ہر آنحضرت ا کے فیض صحبت سے ترقی کرتے ہوئے نبی کا نام پانے والے انسان کے ساتھ شامل نہ ہونا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ کھلے بندوں اس کی جماعت میں شامل ہو کر ہر ایک مؤمن باللہ اپنے نفس کی درستی اور خدمت اسلام میں لگ جائے۔میرے خیال میں تو جو شخص مسیح موعود کو امام برحق مان لیتا ہے اس کے لئے سوائے دنیاوی مشکلات اور مولویوں کے فتوؤں کے اور کوئی چیز مسیح موعود کے مانے میں روک نہیں ہو سکتی۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا چند روزہ ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں