انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 575

انوار العلوم جلد - ۵۷۵ کے بدلے آرام۔یہاں تک کہ لوگ بڑھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تکلیف بھی اور سکھ بھی دونوں ہمارے باپ دادا کو بھی پہنچا کرتے تھے۔پھر ان دکھوں میں نبی کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔پس ہم پکڑ لیتے ہیں ان کو اچانک اور وہ نہیں سمجھتے۔پس یہ خیال ایک خطرناک خیال ہے اور ان لوگوں کا خیال ہے جو حق سے دور ہونے والے ہیں۔حق یہی ہے کہ عام عذاب اس وقت اور اسی زمانہ میں آتے ہیں جب پہلے کوئی رسول مبعوث ہو چکا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثُ رَسُولا؟ (بنی اسرائیل : ۱۶) یعنی ہم کبھی عذاب نہیں بھیجا کرتے جب تک اس سے پہلے رسول نہ بھیج لیا کریں۔پس یہ عذاب اس قابل نہیں کہ ان کو معمولی سمجھو۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کا کوئی رسول مبعوث ہو چکا ہے۔جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے کہ ان ایام کے زلازل معمولی نہیں۔بلکہ ان کی کثرت اور شدت کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔حضرت مسیح موعود نے براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع کیا تھا کہ۔”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔اَلْفِتْنَةُ هُهُنَا فَاصْبَرُ كَمَا صَبَرَا ولوا و و الْعَزْمِ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّاقُوَّةُ الرَّحْمَنِ لِعُبَيْدِ اللهِ الصَّمَدِ (روحانی خز أن ما حاشیہ) اور اس کے بعد خدا تعالٰی کے حملے زلزلوں کے رنگ میں بھی جس قدر ہوئے ہیں اگر دوسرے عذابوں کو نظر انداز کر کے انہی کو دیکھا جائے تو وہ آنکھوں والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔انسائیکلو پیڈیا میں تین صدیوں کے دنیا کے بڑے بڑے زلزلوں کی فہرست اور تعداد اموات دی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے زلزلوں کی نسبت وہ کس قدر حقیر تھے۔ہم اس تین سو سال کے زلزلوں کو دو حصوں پر تقسیم کرتے ہیں۔ایک براہین احمدیہ کے شائع ہونے کے بعد کا زمانہ اور ایک اس سے پہلے کا۔تاکہ معلوم ہو کہ اس قلیل عرصہ میں کس قدر کثرت زلزلوں کی ہوئی اور کیسے سخت نقصان ہوئے ہیں اور اس سے پہلے کا کیا حال تھا وہ فہرست یہ ہے۔تعداد اموات ملک زلزلہ کس سن میں آیا تعداد اموات ملک زلزلہ کس سن میں آیا ساتھ ہزار سلی ٤١٦٩٣ بائیس ہزار ایل پیو Flarr اٹھارہ ہزار لیا ۱۷۲۴ء دس ہزار کیلیبیریا ۱۸۵۷ء