انوارالعلوم (جلد 3) — Page 554
انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۵۴ زندہ خدا کے زیر دست نشان - زءونَ ( نہیں: ۳۱) اے افسوس بندوں پر کہ ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں يستهزء نے اس کی تحقیر کی اس سے نہیں اور ٹھٹھا کیا۔خدا تعالی نے مسیح موعود کی صداقت پر اس قدر نشان دکھائے ہیں اور اس قدر دلائل بھیجے ہیں کہ کافی ہیں ماننے کو اگر اہل کوئی ہے۔" جب ابھی دنیا میں کوئی شخص اس کو جانتا بھی نہ تھا۔اس وقت اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۴۱ ( جو ۱۸۸۳ء میں تمام ہندوستان میں شائع ہوئی) پر یہ الہام شائع کیا کہ يَأْتِيَكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ " (یعنی دنیا کے دور دراز کونوں سے تیرے پاس تھے اور آدمی آئیں گے ) (روحانی خزائن جلد ا صفحہ ۲۶۷) اور براہین احمدیہ حصہ چہارم کے صفحہ ۲۸۹ مطبوعہ ۱۸۸۴ء میں ایک یہ الہام بھی شائع کیا کہ فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ " یعنی وہ وقت قریب آگیا ہے کہ تیری مدد کی جاوے اور تو لوگوں میں پہچانا جادے۔(روحانی خزائن جلدا صفحه (۵۸) اسی طرح ضمیمه اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ میں منجملہ بہت سے الہاموں کے ایک یہ الہام شائع فرمایا۔کہ " خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا (تذکرہ صفحہ (۱۴۱) اور میں تیری تبلیغ کو دنیا کے چاروں کونوں تک پہنچاؤں گا یعنی دنیا کے چاروں کونوں سے تیرے پاس تھے اور آدمی آئیں گے۔اور اب وقت آگیا ہے کہ تیری مدد کی جاوے اور تو لوگوں کے درمیان شہرت پا جاوے۔خدا تعالیٰ تیری تعلیم کو تمام دنیا میں پھیلائے گا۔چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ کلام اللہ تعالٰی کا تھا۔کیونکہ اس کے بعد لاکھوں آدمیوں نے اس کو قبول کیا اور یورپ و امریکہ ، افریقہ، آسٹریلیا اور ایشیا کے تمام بلاد میں اس کا نام بلند ہوا۔اور ہر براعظم کے باشندوں میں سے سعید روحوں نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور برابر قبول کرتی جاتی ہیں۔اور باوجود ہر قسم کی مخالفت کے اس کی جماعت کی ترقی ہر روز پہلے کی نسبت زیادہ سرعت سے ہو رہی ہے۔اسی طرح اسی کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۹ پر آپ نے ہندوستان میں طاعون پھیلنے کی خبر دی تھی۔چنانچہ اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے قریباً پندرہ سال بعد ہندوستان میں طاعون نمودار ہوا۔اور اب تک ہر سال لاکھوں آدمی اس مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور ابھی تک اس کے خاتمہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔جب یہ شروع ہی ہوا تھا اور ابھی