انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 522

ذکرائی العلوم جلد ۳۰ ۵۲۲ ہو جائے تو اس کا رکوع کرنا اور سجدہ میں جانا اس کو نماز کی طرف متوجہ کر دیتا ہے گو کوئی عادت کے طور پر ہی رکوع کرے یا سجدہ میں جائے تاہم حرکت ایک ایسی چیز ہے کہ غافل کو ہوشیار کر دیتی ہے۔دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں یہ بات نہیں ہے۔یہ فضیلت صرف اسلام کو ہی حاصل ہے۔مثلاً ایک شخص فرائض سے پہلے اور بعد میں سنن کا پڑھنا ہے۔نیچر کا یہ قاعدہ ہے کہ جب دسواں طریق کوئی کام ہونے والا ہو تو اس کا کچھ اثر اس کے ظاہر ہونے سے پہلے اور کچھ بعد میں رونما ہو جاتا ہے۔مثلاً جس وقت سورج چڑھنے لگے۔تو گو وہ ابھی نکلا ہوا نہ ہو تو بھی روشنی پھیل جاتی ہے۔اسی طرح اس کے ڈوبنے کے بعد بھی کچھ عرصہ روشنی رہتی ہے۔لیکن جو کام خواہشات کے مطابق ہو یا اس میں کوئی لذت حاصل ہوئی ہو یا اس کے نہ ہونے میں نقصان کا اندیشہ ہو وہ دوسرے کام کے مقابلہ میں کم اثر رکھتا ہے اور اس پر غالب آجاتا ہے۔کوئی ایسا کام کر رہا ہو کہ جس میں اس کو کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کام کے بعد اس نے کوئی ایسا کام کرنا ہے جس میں اسے خاص فائدہ کی امید ہے یا اس کے ہونے پر کسی نقصان کا خطرہ ہے یا وہ کام اس کی خواہشات کے مطابق ہے تو جس کام میں یہ مشغول ہے اس کے کرتے وقت بھی دوسرے کام کے خیالات ہی غالب رہیں گے اور اسی کی طرف اس کی توجہ رہے گی۔مثلاً ایک ملازم دفتر کا کام کر رہا ہو تو اگر دفتر سے فراغت کے بعد اسے کوئی اہم کام جو اس کا ذاتی ہے کرنا ہے تو دفتر کے وقت کے ختم ہونے سے ایک دو گھنٹہ پہلے ہی اس کے خیالات اس طرف متوجہ ہو جائیں گے۔اور اگر دفتر کے کام میں کوئی اہم کام اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث ہوا ہے تو دفتر سے فارغ ہو کر بھی راستہ میں اور پھر کچھ عرصہ تک گھر میں بھی اسی کی طرف اس کا خیال متوجہ رہے گا اور کچھ دیر کے بعد اس کے خیالات ان امور کی طرف متوجہ ہوں گے جن میں یہ اب مشغول ہے۔اس حکمت کی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے فرائض سے پہلے اور بعد سنتیں مقرر فرما دی ہیں تاکہ اگر نماز پڑھنے سے پہلے کوئی خیالات ہوں تو وہ فرائض کو ناقص نہ کریں بلکہ سنتوں کی ادائیگی میں ان کو دبا کر انسان مطمئن ہو جاوے اور پھر فرائض کی طرف پوری طرح توجہ کر سکے۔اسی طرح فرائض کے بعد بھی سنتیں مقرر کر دیں تاکہ اگر نماز کے بعد کوئی ضروری کام ہو تو فرائض کے خاتمہ سے پہلے اس کے خیالات دل میں آکر نماز کو خراب نہ کریں۔بلکہ انسان اطمینان کے ساتھ نماز ادا