انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 489

$ م جلد ۳۰ ۴۸۹ ذکرائی لباس کوٹ ، قمیص ، صدری اور پاجامہ پہنا ہو مگر پاؤں میں جو تانہ رکھتا ہو یا سر پر پگڑی نہ ہو۔گو اس کا تمام لباس اچھا ہو گا مگر ایک پگڑی یا جوتے کے نہ ہونے سے اس میں نقص ہوگا۔اور اعلیٰ درجہ کے لوگ پسند نہیں کرتے کہ ان کی کسی بات میں نقص ہو۔پس جب تمام طریقوں سے ذکر اللہ نہ کرنا ایک نقص ہے اور پھر جب ہم یہ بھی ثابت کر دیں گے کہ نماز کے علاوہ بعض دوسرے طریقوں سے ذکر اللہ کرنے کا بھی خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے چاہے ان کی حکمت کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اور رسول کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے تو ضروری ہے کہ روحانیت کا کمال حاصل کرنے کے لئے ان طریقوں پر بھی عمل کیا جاوے۔ہماری جماعت میں نوافل کے ادا کرنے کی طرف پوری توجہ نہ ہونے کی یہ بھی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے ذکر اللہ کے اس طریق ذکر کے فوائد کو سمجھا نہیں۔وہ فرائض کو ادا کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے کام پورا کر لیا۔حالانکہ رسول کریم و فرماتے ہیں اور خود نہیں فرماتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے مجھے فرمایا ہے کہ لَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ فَكُنْتُ سَمُعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا۔(بخارى كتاب الرقاق باب التواضع) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نوافل سے میرا بندہ مجھ سے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ سنتا ہے۔اور میں اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ دیکھتا ہے۔اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ چلتا ہے۔اس سے آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے نوافل کا کتنا بڑا درجہ رکھا ہے اور نوافل پڑھنے والے کے لئے کتنا بڑا مقام قرار دیا ہے۔گویا ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ انسان کو اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر لے لیتا ہے۔پس نوافل کوئی معمولی چیز نہیں ہیں۔مگر افسوس کہ بہت لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان میں بہت کمزوری اور سستی ہے اس لئے وہ کم سے کم ریاضت کو عمل میں لانا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں کی کمزوریوں سے واقف اور ان پر بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اس نے کچھ تو فرائض مقرر کر دیئے ہیں اور کچھ نوافل - فرائض تو اس لئے کہ اگر کوئی شخص ان کو پورا کر لے گا تو اس پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آکر اسلام کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا۔