انوارالعلوم (جلد 3) — Page 487
العلوم جلد ۳۰ ۴۸۷ کرالی کریں گے۔کیونکہ جو ذکر کرے گا اس کے پاس فرشتے جمع ہوں گے اور جتنا زیادہ کرے گا اتنے ہی زیادہ فرشتے آئیں گے اور اسے نیک کاموں کی تحریکیں کریں گے۔فرشتوں کا آنا کوئی خیالی بات نہیں بلکہ یقینی ہے۔میں نے خود فرشتوں کو دیکھا ہے اور ایک دفعہ تو بہت بے تکلفی -۔باتیں بھی کی ہیں۔تو ذکر کرنے والے کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ان کی دوستی اور تعلق ہو جاتا ہے۔" پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ ولا أولادَكُمْ عَنْ ذِكرِ الله - المنافقون : (١٠) يَا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا - (الاحزاب : ۴۲) اے مومنو! تم کو مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے نہ روک دے۔تم اللہ کا ذکر کرنے میں کسی رکاوٹ کی پرواہ نہ کرو اور کوئی کام تمہارا ایسا نہ ہو جس کو کرتے ہوئے اللہ کے ذکر کو چھوڑ دو۔اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح اور شام اس کی تسبیح بیان کرو۔اسی طرح رسول کریم فرماتے ہیں اور ابو موسی اشعری کی روایت ہے مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُهُ مَثَلُ الْحَقِّ وَالْمَيِّتِ لَا يَقْعُدُ قَوْم يَذْكُرُونَ اللّهَ إِلَّا حَقَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ (بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذكر الله) کم اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ایسی ہی ہے جیسے زندہ اور مُردہ کی۔یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ ہوتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ مُردہ۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ذکر اللہ کس قدر اہم اور ضروری ہے۔پھر ترندی میں وو روایت ہے ابی در داء " کہتے ہیں کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الا انبتُكُم بِخَيْرِ اعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِندَ مَلِيكِكُمْ وَارْفَعَهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَ خَيْر لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرَقِ وَ خَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَن تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَ يَضْرِبُوا أعْنَا تَكُمْ قَالُوا بَلَى قَالَ ذِكُرُ الله - ترندی ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الذكر) رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں جو سب سے بہتر اور سب سے پسندیدہ ہو اور سونے چاندی کے خرچ کرنے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ کوئی جہاد کے لئے جائے اور دشمنوں کو قتل کرے اور خود بھی شہید ہو جائے۔صحابہ نے کہا فرمائیے آپ نے کہا وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ذکر الہی کا درجہ بہت بلند ہے۔صحابہ نے کہا یا رسول اللہ کیا جہاد سے بھی اس کا درجہ بلند ہے۔آپؐ نے فرمایا۔ہاں اس سے بھی بڑھ کر ہے۔وجہ !