انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 466

العلوم جلد۔جماعت احمدیہ کے فرائض آفیسر نے لکھا کہ اس کے لڑکے کو نہیں لینا چاہئے کیونکہ یہی اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے۔مگر اس عورت نے کہا کہ اگر گورنمنٹ کو اس کی ضرورت ہے تو مجھے اس کے دینے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے جس وقت مرضی ہو لے لیا جائے۔یہ وہ قربانی کا جذبہ ہے جو قوموں کو کامیاب کیا کرتا ہے۔اگر ہماری گورنمنٹ کی رعایا اس طرح نہ کرتی تو اس کی کوئی عزت نہ ہوتی۔مگر جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں اور انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنی عزت کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لیئے تیار ہیں۔پس میں آپ لوگوں کو کہتا ہوں کہ جس طرح ہماری گورنمنٹ کو ایک بے مثال جنگ میں شامل ہونا پڑا اسی طرح ہم بھی ایک بے مثال جنگ کر رہے ہیں۔اور جس طرح ہماری گورنمنٹ ایک جسمانی جنگ کر رہی ہے اور اس لئے لڑ رہی ہے کہ کمزوروں اور ضعیفوں کو بچارے اسی طرح ہمیں بھی خدا تعالٰی نے اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے کہ روحانی بیکسوں ، ناداروں اور ضعیفوں کی حفاظت کریں اور ان کو ہلاکت سے بچاو یں اور جو خدا تعالیٰ سے بچھڑ چکے ہیں انہیں خدا تعالیٰ سے ملادیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ وہ قربانیاں نہیں کرتے جو آپ کو کرنی چاہئیں۔اور کیا وجہ ہے کہ اس انجمن کے ممبر میرے کان کھا جاتے ہیں کہ لوگ ہماری اپیلوں پر توجہ نہیں کرتے اور چندہ نہیں بھیجتے۔کیا آپ لوگ اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ اپنا سب مال بیچ دیا ہے اور اس کے بدلہ میں جنت لے لی ہے۔اگر ہیں تو جب آپ سے خدا کے لئے مال مانگے جاتے ہیں۔تو ان کے دینے سے کیوں دریغ کیا جاتا ہے۔پھر کیا تم اس بات کے مدعی نہیں ہو کہ ہم نے اپنی جانوں کو خدا تعالی کے سپرد کر دیا ہوا ہے۔اگر ہو تو جب تمہارے سپرد کوئی دین کا کام کیا جاتا ہے تو اس کے کرنے میں کیوں ستی دکھاتے ہو۔جب تم نے اپنا مال اور اپنی جان خدا تعالیٰ کے آگے بیچ دی ہے تو کیوں ضرورت کے وقت اس بیچ پر قائم نہیں رہتے۔دیکھو میں ایک بیمار آدمی ہوں اور مجھ پر بہت بڑے بڑے بوجھ ہیں۔تمہاری روحانیت کا خیال، تمہاری تربیت کا فکر تمہاری دینی اور دنیاوی مشکلات کے دور کرنے کی کوشش کرنا کیا میرے لئے کوئی معمولی کام ہے۔اگر کسی کے ایک بچہ کو کوئی تکلیف ہو یا کسی مصیبت میں ہو تو اسے آرام نہیں آتا مگر میرے تو لاکھوں بچے ہیں کوئی ک تکلیف میں ہوتا ہے کوئی کسی میں۔کوئی کسی مشکل میں ہو تا ہے کوئی کسی میں۔اس سے آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ میری ہر گھڑی اور ہر لحظہ کسی مصیبت اور کس رنج میں گزرتی ہے۔لیکن