انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 461

وم جلد ۳۰ ۴۶۱ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں آپ کی ہے۔لیکن تم نے ان سے اصل خدا اصل قرآن اور حقیقی نبی کریم " منوانا ہے۔کیا یہ کوئی چھوٹا کام ہے۔آپ لوگوں نے ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے سامنے اپنا مال اور اپنی جائیں خرچ کر کے بتانا ہے کہ خدا کی اصل شان کیا ہے، قرآن کریم کی صحیح تعلیم کیا ہے آنحضرت ا کی اصل حقیقت کیا ہے اور پھر جو عیب جو نقص اور جو کمزوریاں وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کو دور کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن کریم پر کئی قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں۔اکثر کہتے ہیں کہ اس میں ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں جو غلط ہیں۔اکثر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی ربط نہیں۔گویا جس طرح ایک نادان بچہ کے ہاتھ سے کاغذ پر سیاہی کے گرنے سے بے ترتیب چھینٹے پڑ جاتے ہیں نعوذ باللہ اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ بے ترتیب کی باتیں بتادی ہیں حالانکہ یہ اتنا بڑا نقص ہے کہ کسی سمجھدار انسان میں بھی نہیں پایا جاتا پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ میں پایا جاتا ہو۔پھر قرآن کے متعلق سمجھ رکھا ہے کہ یہ مُردوں کی قبروں پر پڑھنے کے لئے ہے۔گویا یہ زندوں کے لئے نازل نہیں ہوا تھا۔مردوں کے لئے ہوا تھا۔پھر قرآن کی آیت کے ناسخ و منسوخ نے قیامت برپا کردی۔کسی نے کوئی آیت منسوخ کر دی اور کسی نے کوئی۔اور جس آیت کا مطلب نہ سمجھ آیا یا جو اپنی منشاء کے خلاف معلوم ہوئی اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ منسوخ ہے۔پھر بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن در اصل آنحضرت ا پر نہیں اتارا گیا بلکہ حضرت علی پر اتارا گیا تھا لیکن جبرائیل غلطی سے آنحضرت ا کو دے گئے۔یہ بھی بہت بڑا حملہ ہے۔کیونکہ اگر (نعوذ باللہ ) آنحضرت اس قابل نہ تھے کہ آپ پر خدا کا کلام اتر تا تو پھر خدا نے اس غلطی کی اصلاح کیوں نہ کی۔پھر بعض نے کہا کہ قرآن کے دس ے ہی غائب ہیں۔اس سے تو قرآن کا کوئی حکم بھی قابل عمل نہ رہا کیونکہ ممکن ہے کہ جو قرآن کا حصہ غائب ہے اس میں کسی حکم کی کوئی تشریح ہو۔پھر بعضوں نے کہا کہ قرآن خدائی کلام ہی نہیں آنحضرت ا کے اپنے خیالات ہیں۔بعض نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کے کلام کے متعلق ان کے اعتقاد ہوئے۔ان کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا نہ چھوڑا جس پر کوئی نہ کوئی گندے سے گندہ الزام نہ لگایا ہو۔سورۃ یوسف میں جہاں آتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائیوں نے ان کے چھوٹے بھائی پر سے چوری کا الزام دور کرتے ہوئے خود حضرت یوسف پر بھی الزام لگا دیا کہ اس کا بھائی (یوسف) بھی پہلے