انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 460

العلوم جلد ۳ ۴۶۰ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں میں پڑے ہوئے ہیں۔پھر مسلمانوں کے فلسفی کہتے ہیں کہ خدا کو قادر سمجھنا ہی لغو ہے۔خدا علت ہے اور مجبور ہے کہ پیدا کرے۔اس لئے یہ چیزیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔یہ لوگ مثال میں یہ بات پیش کرتے ہیں کہ آگ کا کام جلانا ہے جو اس میں انگلی ڈالے گا۔اس کی انگلی کو وہ ضرور جلائے گی۔اسی طرح کا خدا ہے وہ مجبور ہے کہ پیدا کرے۔اس لئے چیزوں کی پیدائش ہوتی رہتی ہے۔کیا ایسے خدا سے کوئی عظمند محبت کر سکتا ہے جو آپ ہی آپ بلا ارادہ اور بلا منشاء کے کام کرنے پر مجبور ہے۔کیونکہ کسی کو انعام یا سزا دینا تو اس کے اختیار میں ہی نہ ہوا اور جب یہ نہ ہوا تو اس سے محبت یا خوف کیسا۔پھر کہتے ہیں کہ اب خدا کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔جو کچھ اس نے بولنا تھا وہ بول چکا ہے۔گویا اب اس کے بولنے کی صفت معطل ہو چکی ہے۔غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو ان کے عقائد میں داخل ہو چکی تھیں۔اور قرآن کریم نے جو کچھ بتایا تھا وہ ان کے اعتقادات میں داخل نہیں رہا تھا۔اس لئے خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔آپ نے آکر اسلام کو ان تمام نقصوں اور عیبوں سے پاک کیا جو ان لوگوں نے اس کی طرف منسوب کر دیئے تھے۔اور بتایا کہ خدا ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ اس سے مقابلہ کر سکتا ہے۔اور یہ کہ خدا جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادہ سے کرتا ہے مجبور ہو کر نہیں کرتا۔ہر ایک انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اس سے پوچھا جائے گا۔مگر خدا سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔خدا تعالیٰ علت نہیں بلکہ وہ اپنے فضل اور احسان سے سب کام کرتا ہے اور یہ کہ اس کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہی غلط ہے۔اور یہ بحث ہی فضول ہے اور یہ کہ اسکے کلام کرنے کی صفت اب بھی معطل نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔غرض اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود نے ہی اسلام کو صاف اور شفاف کر کے پیش کیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے اس حکم کو پورا کر کے دکھلا دیا ہے کہ سبح اسم ربك الأعلى ال علی : ٢ اب لوگ سمجھیں کہ ہم میں اور غیر احمدیوں میں وفات مسیح کا ہی اختلاف نہیں۔خدا تعالیٰ کے متعلق بھی اختلاف ہے۔وہ اس خدا کو نہیں مانتے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔پھر قرآن کریم کے بارہ میں اختلاف ہے۔وہ اس رنگ میں اس کو نہیں مانتے جو کہ اصلی اور ہے۔پھر آنحضرت الی میں بھی اختلاف ہے وہ اس شان میں آپ کو نہیں مانتے جو