انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 459

لوم جلد ۳۰ ۴۵۹ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں کہ ہمارے آنے سے پہلے ہی نماز پڑھا دی۔اور اس پر بہت غصہ کا اظہار کیا۔مولوی صاحب نے کہا نہیں بیگم صاحبہ! میں نے تو نماز نہیں پڑھائی۔والیہ بھوپال نے کہا کہ سب لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپ پڑھا چکے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میں نے خدا تعالی کی نماز پڑھائی ہے۔آپ کی نماز کے لئے یونہی انتظار کر رہا تھا تشریف لائیے اب پڑھا دیتا ہوں۔انہی مولوی صاحب نے رویا میں ایک شکل دیکھی کہ اس کے جسم پر کیڑے پڑے ہوئے تھے اور ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں اور بڑا بدصورت تھا انہوں نے اس سے پوچھا تم کون ہو۔اس نے کہا میں خدا ہوں۔انہوں نے کہا ہمیں تو قرآن نے بڑا خوبصورت اور بڑی اعلیٰ صفتوں والا خدا بتایا ہوا ہے۔تم کس طرح خدا ہو سکتے ہو۔اس نے جواب دیا میں وہ خدا نہیں ہوں جس کا ذکر قرآن میں ہے بلکہ میں بھوپال کا خدا ہوں۔تو وہ خدا جو بڑا ہی خوبصورت اور بڑے ہی جمال والا ہے بڑی ہی شان و شوکت رکھتا ہے اور ایسا ہے کہ اس کی صفات کو سن کر انسان کا دل چاہتا ہے کہ اس کے رستہ میں اپنے جسم کو ریزہ ریزہ کر دے وہ اس وقت کے لوگوں کے خیالات کے مطابق مولوی صاحب کو اس شکل میں نظر آیا۔مگر آج مسلمان جو خدا پیش کرتے ہیں وہ بھی کچھ کم نہیں۔منہ سے اس کی تقدیس کی جاتی ہے مگر واقعہ میں جو تفصیلات اس کی صفات اور اس کے کاموں کے متعلق بیان کی جاتی ہیں ان سے وہ نہایت بھیانک اور خوفناک خدا معلوم ہوتا ہے۔پھر یہی نہیں خدا تعالی کے کمزور بندوں کو خدا بنایا جا رہا ہے۔پھر ایک ایسی جماعت جو کہتی ہے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ موحد ہیں۔لیکن انہوں نے یہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو وضعی اور جھوٹی حدیثوں کے نیچے چھپا دیا ہے۔یہ لوگ اگر ایک گڑھے سے نکلے تھے تو دوسرے میں جاگرے ہیں۔پھر اور عقائد میں ہزار ہا قسم کی خرابیاں ہیں۔اور ان کو رسائل اور کتب میں ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ خدا جھوٹ نہیں بول سکتا۔دوسرے کہتے ہیں نہیں وہ شخص جو یہ کہتا ہے وہ خدا کی قدرت کا منکر ہے اس لئے وہ کافر ہے۔پہلے صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ خدا سچ بولتا اور سب بچوں سے زیادہ سچا ہے اس لئے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔تم قرآن کریم کو نہیں مانتے اس لئے کافر ہو۔حالانکہ یہ بحث ہی لغو ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ قدرت کے معنی طاقت رکھنے کے ہیں اور طاقت کا کمال یہ ہے کہ صاحب طاقت میں کوئی عیب اور کوئی نقص نہ ہو۔جھوٹ بولنا ایک نقص ہے اس لئے قادر ہونا اور جھوٹ بولنا یکجا جمع ہی نہیں ہو سکتے۔لیکن مسلمان ہیں کہ ان لغو بحثوں