انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 458

دم جلد - ۳ ۴۵۸ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں دیکھا ہے کہ اگر کوئی چھوٹی کشتی لے جا رہے ہوتے تو زور لگاتے وقت لا الہ الا اللہ کہتے اور اگر بڑی ہوتی تو پیر دستگیر کہتے۔گویا انہوں نے خدا اور پیر دستگیر کا یہ اندازہ لگایا ہوا تھا کہ چھوٹی کو تو خدا پار کر سکتا ہے مگر بڑی کے لئے پیر دستگیر کی مدد کی ضرورت ہے۔پھر میں نے ایک نظارہ دیکھا کہ ایک بڑی کشتی کو کھینچ رہے تھے۔لیکن وہ کھنچتی نہ تھی۔اس پر انہوں نے لا الہ الا اللہ کہہ کر زور لگایا مگر نہ چلی۔پھر یا شیخ ہمدان کہہ کر زور لگاتے رہے اس میں بھی انہیں کامیابی نہ ہوئی۔اس کے بعد جب پیر دستگیر کہہ کر زور لگانے لگے تو تمام مرد عورت اور بچے جو کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے سب ان کے ساتھ مل کر زور لگانے لگ گئے تاکہ اگر اب نہ چلی تو پیر دستگیر کی ہتک ہو گی۔گویا ان کو خدا کی ہتک کی تو کوئی پرواہ نہ تھی مگر پیر دستگیر کی ہتک کو گوارا نہ کر سکتے تھے۔پھر مسلمانوں نے یہاں تک باتیں بنائی ہوئی ہیں کہ کسی کے لڑکے کی فرشتہ جان نکال کر لے گیا تھا کہ اتنے میں پیر دستگیر آگئے۔اس شخص نے ان کو کہا کہ میرا لڑ کا زندہ کر دیجئے۔اس وقت عزرائیل آسمان پر چڑھ رہا تھا انہوں نے اس کو کہا کہ اس لڑکے کی روح کو چھوڑ دو تاکہ زندہ ہو جائے۔لیکن اس نے کہا کہ مجھے چھوڑنے کا حکم نہیں ہے اس لئے میں نہیں چھوڑ سکتا۔جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے ایک لاٹھی دے ماری جس سے اس کا گھٹنا ٹوٹ گیا اور اس سے زنبیل لے لی جس میں اس نے روحیں بند کی ہوئی تھیں اور سب کو چھوڑ دیا۔اس سے اس دن کے تمام مرنے والے زندہ ہو گئے۔عزرائیل نے جاکر خدا تعالیٰ کو یہ بات بتائی اور کہا کہ آج میرے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آیا اس کا انسداد ہو جانا چاہئے۔اس پر خدا تعالیٰ نے کہا چپ چپ اس کے متعلق کوئی بات نہ کرنا اگر وہ آج تک کے تمام مردوں کو زندہ کر دے تو پھر میں نے اور تم نے اس کا کیا بگاڑ لینا ہے۔اس سے دیکھ لیجئے کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کی کیا شان ہے۔اور پیر دستگیر کی کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ایک استاد مولوی عبد القیوم نام ریاست بھوپال میں رہتے تھے بڑے باغیرت اور دیندار تھے۔ایک دفعہ عید کے موقع پر وہاں کے ریذیڈنٹ نے بیگم صاحبہ بھوپال کو کہا کہ میں آپ کی نماز دیکھنا چاہتا ہوں اس لئے خاص طور پر عید گاہ کو سجایا گیا اور خاص اہتمام کیا گیا۔عید کے دن جب مولوی عبد القیوم صاحب نماز پڑھانے کے لئے گئے تو اس وقت تک ریذیڈنٹ اور بیگم صاحبہ نہیں آئی تھیں لیکن وقت ہو گیا تھا۔مولوی صاحب نے حاضرین کو نماز پڑھا دی۔نماز پڑھا چکنے کے بعد بیگم صاحبہ آئیں اور پوچھا مولوی صاحب آپ نے یہ کیا کیا