انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 445

لوم جلد ۳ ۴۴۵ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذم میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں (یہ عقیدہ بتایا کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے۔جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔وہ دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے وہ ایسا ہے کہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے۔اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔اور باوجود ایک ہونے کے اس کی تجلیات الگ الگ ہیں۔انسان کی طرف سے جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے۔تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدا بن جاتا ہے (یعنی رحمن سے رحیم بن جاتا ہے) اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتا ہے۔اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آجاتا ہے۔بلکہ وہ ازل سے غیر متغیر اور کمال تام رکھتا ہے۔لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیر ہوتے ہیں۔تو خدا بھی ایک نئی تجلی سے اس پر ظاہر ہوتا ہے اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان سے ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔(یعنی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایسی کہ انسان خود بھی حیران ہو جائے کہ میں پہلے کیا تھا اور اب کیا بن گیا ہوں) خوارق اور معجزات کی یہی جڑھ ہے۔یہ خدا ہے۔جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے۔اس پر ایمان لاؤ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اس کو مقدم رکھو اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو مقدم نہیں رکھتی۔مگر تم اس کو مقدم رکھو۔تا تم آسمان پر اس کی جماعت لکھے جاؤ (بعض لوگ یہاں بیعت کا کارڈ لکھ دینا کافی سمجھتے ہیں اور اپنے اندر تبدیلی نہیں پیدا کرتے۔ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس طرح کرنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔بیعت دراصل وہی ہے کہ جس کے کرنے سے آسمان پر نام لکھا جائے)