انوارالعلوم (جلد 3) — Page 439
العلوم جلد - ۳ ۴۳۹ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں پس جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کے کسی نبی یا اس کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو گویا وہ اقرار کرتا ہے کہ میری جان اور میرا مال میرے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہو گئے۔مگر خدا تعالٰی اس سے یہ چیزیں لے نہیں لیتا بلکہ اس کے پاس رہنے دیتا ہے۔اور جب وہ ان میں سے کچھ حصہ خدا کی راہ میں لگاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر اور انعام کرتا ہے۔یہ ہے وہ بیچ جو خدا تعالٰی مومنین سے کرتا ہے۔کیا کوئی اور بیع اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکتی ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ یہ بے مثل ہے۔لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے اور اس بات کے امتحان کا وقت آتا ہے کہ کون اس کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔تو اکثر لوگ اس میں پاس ہونے کی کوشش نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری جان اور ہمارا مال ہمارے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ ہم بیچ چکے ہیں اور ہمارے پاس اس نے بطور امانت کے یہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔اور بہت ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہماری اپنی ضرورتیں اور حاجتیں تھوڑی ہیں کہ خدا کی راہ میں ان کو خرچ کریں۔لیکن اس سے زیادہ بے شرمی اور بے حیائی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر دیکھو کہ تم زید کو ایک چیز خرید کردو۔اور کہو کہ اس کو تم اپنے پاس رکھو اور استعمال بھی کرو۔اگر کبھی ہمیں اس کی ضرورت ہوئی تو تم سے لے لیں گے۔مثلاً تم زید کو ایک مکان خرید کر دو کہ تم اس میں رہو۔جب کبھی ہمیں اس کی ضرورت ہوئی اس وقت خالی کر دینا پھر کسی وقت تم اسے جاکر کہو کہ ہم تم سے سارا مکان تو خالی نہیں کرواتے البتہ ایک کمرہ کی ضرورت ہے وہ خالی کردو۔لیکن وہ آگے سے یہ کہے کہ یہ مکان تو پہلے ہی میری ضروریات کی نسبت کم ہے پھر میں آپ کو ایک کمرہ کس طرح خالی کر دوں۔کیا اس کے اس جواب کو تم پسند کرو گے۔یا کوئی اور عقلمند انسان پسند کرے گا۔ہرگز نہیں۔بلکہ تم بھی اور دوسرے بھی اس پر لعنت بھیجیں گے۔اور اس سے نفرت کا اظہار کریں گے۔لیکن اکثر لوگ ایسا ہی معاملہ خدا تعالٰی سے کرتے ہیں لیکن نہ ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے نہ دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے ہیں۔حالانکہ یہ امر نہایت ہی قابل نفرت اور مستحق ملامت ہے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر قابل ملامت اور لائق نفرین یہ بات ہے کہ اگر مالک مکان مکان میں رہنے والے کو یہ بھی کہے کہ تم ایک کمرہ خالی کر دو اس کا میں تمہیں کرایہ بھی دے دوں گا۔لیکن پھر بھی وہ نہ مانے۔اور اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے۔جب میں اپنی رکھائی ہوئی امانت میں سے کچھ لوں گا۔تو اس کے بدلہ میں اور بھی بہت کچھ دوں گا۔مگر پھر بھی