انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 438

انوار العلوم جلد - ۳ ۴۳۸ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں کردہ ہے۔خدا تعالیٰ کی بیع کو دیکھو۔انسان کو اپنی شفقت اور ذرہ نوازی سے پیدا کرتا ہے اور اپنے احسانات اور انعامات کے اس پر دروازے کھول دیتا ہے پھر کہتا ہے۔آؤ ہم تم بیع کریں۔اس وقت سب سے پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ کیا بندہ کی بھی کوئی چیز ہے کہ جسے وہ خدا تعالی کو دے گا اور اس کے معاوضہ میں کچھ لے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی کوئی شئے نہیں۔جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خدا تعالٰی کا ہی دیا ہوا ہے۔لیکن باوجود اس کے خدا تعالی کہتا ہے کہ آؤ مجھ سے بیچ کر لو اور جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے وہ مجھے دے دو اور اس کے بدلہ میں بہت اعلیٰ درجہ کے انعامات تم کو دوں گا۔دیکھئے انسانی جان ہوتی ہی کیا چیز ہے اور اس کی ہستی ہی کیا ایک بوند ہوتی ہے جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔پھر دنیاوی مال و دولت کیا وقعت رکھتی ہے۔دس ہیں لاکھ یا کرو ڑ دو کروڑ روپیہ ہے۔اسے دے کر خدا تعالیٰ سے جو کچھ ملتا ہے۔وہ جنت ہے۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہیں دے دوں گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ال نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کے روزے کی جزاء میں ہوں۔تو خدا تعالیٰ خود انسان کو سب کچھ دیتا ہے۔اور پھر کہتا ہے کہ آؤ سودا کرلیں۔اور سودا اس طرح کرتا ہے کہ نہایت ادنی چیزیں لے کر ان کے بدلہ میں ابدی اور بیش بہا چیزیں دیتا ہے۔اور یہاں تک فرماتا ہے کہ میں جو آتا ہوں میں بھی پھر تیرا ہو جاؤں گا۔پھر اس بیع میں ایک اور بہت بڑی خوبی ہے۔اور وہ خدا کوئی چیز خرید کرلے نہیں لیتا یہ کہ جو چیز خدا تعالیٰ بندہ سے بیع میں لیتا ہے۔وہ لے نہیں لیتا۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی انسان نے اپنی جان کو خدا تعالی کے ہاتھ بیچ کر دیا ہو۔اور خدا تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا ہو۔یا یہ کہ کسی نے خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے مال کی بیع کی ہو اور خدا نے اس کی تمام دولت اور جائیداد وغیرہ کو اس سے اس طرح لے لیا ہو۔جس طرح ہم جب کوئی چیز خریدتے ہیں تو اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ اللہ تعالی جان و مال خود دے کر پھر خریدتا ہے۔اور اس کے بدلہ میں ابدی انعامات دیتا ہے۔اور پھر بھی یہ کہتا ہے کہ ان بیچی ہوئی چیزوں کو اپنے پاس ہی رکھو اور اپنے فائدہ اور نفع کے لئے خرچ کرو۔لیکن اتنا یاد رکھو کہ جب ہماری طرف سے یہ آواز آئے کہ ہمارے راستہ میں خرچ کرو تو اس وقت ان میں سے کچھ دے دیا کرو۔پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ جب تم ہماری تمام و کمال خریدی ہوئی چیزوں میں سے کچھ ہمارے لئے خرچ کرو گے تو اس پر میں تمہیں اور انعام دوں گا۔ه بنیا اما تاب الصوم باب فضل الصوم