انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 433

م جلد -- ۳۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں طاقت ہے اس پر اس کا کچھ اختیار نہیں ہے۔وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت اس میں رکھی ہوئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ میں دو صفتیں ہیں۔ایک یہ کہ انسان پر بغیر اس کی کسی محنت کے بعض فضل کرتا ہے۔اور دوسری یہ کہ جب انسان بغیر محنت کے دی ہوئی چیزوں کو کلام میں لاتا ہے۔تو اس کے نتیجہ میں اس پر اور انعام کرتا ہے۔یہ احسان اس کی صفت رحیمیت کے ماتحت ہوتے ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ دو صفتیں ہیں۔یعنی ایک یہ کہ بغیر انسان کی محنت کے اسے کچھ دیتا ہے۔اور دوسرے یہ کہ جب انسان اس پر عمل کر کے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو اسے انعام دیتا ہے۔اس لئے خدا تعالٰی نے قرآن کریم کی ہر ایک سورۃ کے ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم رکھ دیا ہے تاکہ انسان اس طرف متوجہ ہو۔یہ جو اگلی سورۃ میں پڑھنے لگا ہوں اس کے حاصل کرنے کے لئے میں نے کوئی محنت نہیں کی بلکہ یہ محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان و مروت سے اس کی صفت رحمانیت کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اگر میں اس پر عمل کروں گا۔تو خدا تعالی کی دوسری صفت جو رحیمیت ہے اس کے ماتحت مجھ پر بڑے بڑے انعام ہوں گے۔اور پھر اس سے یہ بتایا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے رحمن ہو کر اس قدر احسان اور فضل کیا ہے تو جب میں اس کی صفت رحیمیت کے ماتحت آجاؤں گا تو وہ رحیم ہو کر کس قدر کرے گا۔کیونکہ جو بغیر محنت کرنے کے اس قدر دیتا ہے وہ محنت کرنے پر کیوں بے انتہاء نہ دے گا۔دراصل خدا تعالیٰ کی صفات رحمانیت اور رحیمیت ایک پھر کی کی طرح ہیں۔پہلے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا ظہور ہوتا ہے اور جب کوئی شخص اس صفت سے فائدہ اٹھاتا ہے تو پھر صفت رحیمیت اس کو خدا تعالٰی سے جاکر ملا دیتی ہے پھر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ گر ہوتی ہے۔پھر یہ اس سے اپنے آپ کو وابستہ کرتا ہے۔اور پھر اٹھایا جا کر خدا تعالٰی کے اور بھی قریب کیا جاتا ہے۔گویا رحمانیت اور رحیمیت کو ئیں کے چکر کی طرح چلتی رہتی ہیں کہ پہلے ایک ظاہر ہوتی ہے پھر دوسری پھر پہلی اور اس کے بعد پھر دوسری جس طرح کو ئیں کی ٹنڈیں اوپر سے خالی آتی ہیں پھر بھر کر اوپر چلی جاتی ہیں۔پھر خالی ہو کر آتی ہیں۔پھر بھر کر چلی جاتی ہیں۔اسی طرح صفت رحیمیت کا ظہور ہوتا ہے۔پھر اس کے ساتھ انسانی اعمال وابستہ ہو جاتے ہیں اور بلند ہو کر خدا تعالی کے حضور میں پیش ہو کر خلعت قبولیت پاتے ہیں۔ہر سورۃ کے پہلے بسم الله الرحمن الرحیم رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک فضل میرا